noImage

بہاؤ الدین کلیم

یہ تری مست نگاہی یہ فروغ مے و جام

آج ساقی ترے رندوں سے ادب مشکل ہے

جنوں کا پاؤں پکڑ کر خرد بہت روئی

تری گلی سے جو صحرا کی راہ لی میں نے