بینا گوئندی کا تعارف

اصلی نام : روبینہ نازلی گوئندی

پیدائش : 03 Jul 1967 | سرگودھا, پنجاب

بینا گوئندی 3 جولائ 1967 کو پنجاب کے شہر سرگودھا کے ایک تعلیم یافتہ گھرانے میں پیدا ہوئیں۔
ان کا اصل نام روبینہ نازلی گوئندی ہے مگر بر صغیر کے مشہور افسانہ نگار اور ادیب اشفاق احمد نے ان کا قلمی نام بینا گوئندی تجویز کیا ۔ابتدائ تعلیم سرگودھا کے کانوُنٹ ہائ سکول سے حاصل کی ۔بچپن سے ہی لکھنے کی طرف من مائل رہا۔ پہلے پہل انگریزی میں لکھتی رہیں۔لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی سے ایف ایس سی اور بی ایس کرنے کے بعد ماں باپ کے پرزور اصرار پر پنجاب یونیورسٹی میں ایم ایس سی باٹنی میں داخل ہوئیں اور نمایاں پوزیشن حاصل کی۔وہ بچپن سے شاعری اور اردو ادب سے بے انتہا لگاؤ رکھتی تھیں ۔ اسی لیۓ کالج کی سطح پر وہ اور ان کی شاعری عام و خاص میں مشہور ہونے لگی۔ وہ ایک نڈر اور جمہوری رویوں کی قائل تھیں گویا نظموں کے ساتھ ساتھ انہوں نےمقامی اخبارات میں “ چشم بینا “کے نام سے مسلل کالم بھی لکھے۔ خبریں ، مشرق اور تاحال وہ “پاکستان “اخبار میں باقاعدہ کالم نگاری بھی کرتی ہیں۔ان کا اردو اور فلسفے کی طرف خصوصی رجحان تھا گویا انہوں نے ان مضامین میں بھی اعلی ڈگریاں لیں۔ اردو زبان سے عشق کرنے والی بینا گوئندی نے وفاقی دارالحکومت پاکستان کے دفتر اردو سائنس بورڈ میں پندرہ برس کام کیا۔جہاں پر انہوں نے بے شمار اردو میں سائنس کی کتب تحریر کیں ۔ جس کو بڑے پیمانے پر پذیرائ بھی ملی۔ انہوں نے اوکاڑہ کے وومن کالج میں پروفیسری بھی کی اور پھر اعلی تعلیم کے لیۓ امریکہ روانہ ہو گیں۔وہاں پر اردو کی بستی “گھروندہ” کے نام سے آباد کی۔
بینا گوئندی حق اور سچ کی بات کرتی پیں۔ ان کی شاعری کے موضوعات زمانے کے بدلتے رویوں کے اثرات کے ساتھ بدلے مگر وہ اپنی تہذیبی روایات اور اقدار کو لے کر آگے بڑھی ہیں۔ ان کی شاعری میں تصوف اور دلیری کی جھلک نمایاں ہے ۔
بینا گوئندی نے پاک و ہند کے علاوہ بین الاقوامی مشاعروں میں دنیا بھر میں شمولیت کی ۔ موجودہ دور کی شاعرات میں بینا کا نام صفحہ اوّل کی شاعرات میں آتا ہے ۔
ان کی پہلی شاعری کی کتاب “سوچتی آنکھیں “1992 میں منظر عام پر آئ ۔ دوسری شاعری کی کتاب “جو تم نے دیکھا “2001 میں چھپی اور تیسری شاعری کی کتاب “ مٹی کی پیالی “2018 میں چھپی ہے۔
اس کے علاوہ سفر نامہ نگاری میں چار کتب ہیں ۔ ایک افسانوں کی کتاب اور ایک ناول پر کام کر رہی ہیں۔

موضوعات