Bilal Ahmad's Photo'

بلال احمد

1979

عجیب قید تھی جس میں بہت خوشی تھی مجھے

اب اشک تھمتے نہیں ہیں یہ کیا رہا ہوا میں

ہماری خاک تبرک سمجھ کے لے جاؤ

ہماری جان محبت کی لو میں جلتی تھی

سنا ہے میں نے اذیت مزہ بھی دیتی ہے

سنا ہے دل کی خلش میں سکوں بھی ہوتا ہے

ایک حالت تھی مری اور ایک حالت دل کی تھی

میری حالت تو وہی ہے دل کی وہ حالت گئی

رس رہا ہے مدت سے کوئی پہلا غم مجھ میں

راستہ بناتا ہے آنسوؤں کا نم مجھ میں

الجھ رہا تھا ابھی خواب کی فصیل سے میں

کہ نارسائی نے اک شب مجھے رسائی دی

عجیب ڈھنگ سے تقسیم کار کی اس نے

سو جس کو دل نہ دیا اس کو دل ربائی دی

ایک کانٹے کی کھٹک سے دل مرا آباد تھا

وہ گیا تو دل سے میرے درد کی راحت گئی