بلال حسن منٹو کے افسانے
کیڑا
یہ بات تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ محمود کے پیٹ میں کوئی کیڑا ویڑا تھا یا نہیں مگر خود اسے یہ یقین ہو چلا تھا کہ تھا۔ پہلے۔۔۔ اپنے دفتر کے دوست عمر سے بات کرنے سے پہلے۔۔۔ اسے ایسا کوئی خیال تک بھی کبھی نہیں گزرا تھا لیکن اس موضوع پہ عمر کی گفتگو کے بعد
فیلیئر
ایک روز، مارچ کے مہینے میں، پیر کی صبح، مجھے چھٹی جماعت شروع کرنا پڑی۔ پانچویں جماعت تک، جب ہم جونیئر سکول میں تھے تو سینئرسکول کو بڑی حسرت سے دیکھا کرتے تھے جہاں لڑکے نیکروں کی جگہ پتلونیں پہنتے تھے۔ کبھی کبھی یہ سوچ کر کہ ہم بھی عنقریب پانچویں جماعت
ڈاکٹر والٹر
جب والٹر خاندان کا گھر بننا شروع ہوا تو ہمیں یہ مشغلہ ہاتھ آیا کہ ہم اکثر شام کو وہاں جا کے اس کے باہر منڈلاتے رہیں اور ریت اور بجری کی ڈھیریوں پر اچھل کود کرتے رہیں۔ میں، طلعت، عاقب، قمر اور مظہر۔ تب ماڈل ٹاؤن میں زیادہ تر گھر وہی تھے جو ہندؤ وں نے
اندیشہ
الو کی آنکھوں والے فضو انکل کے بارے میں امی کی جو خواہش تھی، یعنی یہ کہ جب یہ شخص مرے اور جہنم میں جائے اور جب وہاں اس کو لٹکاکر اس کے نیچے آگ دہکائی جائے تو میں وہ منظر دیکھ سکوں، وہ تونہ جانے پوری ہو سکے گی یا نہیں ،کیونکہ امی ابھی زندہ ہیں اور یہ
گھنٹی
صبح جاوی بی بی کے میاں فوت ہو گئے ـ۔ وہ بہت افسردہ ہیں۔ اس وجہ سے تو ہیں ہی کہ میاں فوت ہو گئے، مگر ایک احساس غفلت بھی انہیں ستاتا ہے۔ سو ذرا اس سے زیادہ افسردہ ہیں جتنا ادھیڑ عمر بیوہ عورتوں کو یکایک بیوہ ہو جانے پر ہونا چاہیے۔ افسردہ تو ظفر بھی ہے،
آسیہ
ہو سکتا ہے کبھی کبھی لوگوں کو محسوس ہوتا ہو کہ ہم محلے والے یونہی، بلا وجہ آپا صغراں کے خلاف تھے۔ شاید وہ سوچتے ہوں کہ آخر ایسی دین دار عورت کیخلاف کیوں کر کوئی ہو سکتا ہے جس نے گھر کی صفائی کرنے والی ملازمہ ایلس کو نوکر ی سے اس اصولی بناء پر نکال