noImage

احتشام اختر

1944

شہر کے اندھیرے کو اک چراغ کافی ہے

سو چراغ جلتے ہیں اک چراغ جلنے سے

مرے عزیز ہی مجھ کو سمجھ نہ پائے کبھی

میں اپنا حال کسی اجنبی سے کیا کہتا

سوچ ان کی کیسی ہے کیسے ہیں یہ دیوانے

اک مکاں کی خاطر جو سو مکاں جلاتے ہیں

تم جلانا مجھے چاہو تو جلا دو لیکن

نخل تازہ جو جلے گا تو دھواں بھی دے گا