فہیم گورکھپوری کے اشعار
کردار دیکھنا ہے تو صورت نہ دیکھیے
ملتا نہیں زمیں کا پتا آسمان سے
کہہ کے یہ پھیر لیا منہ مرے افسانے سے
فائدہ روز کہیں بات کے دہرانے سے
سب کی دنیا تباہ کرتے ہو
تم بھی کیا ہو گئے ہو امریکہ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کل جو گلے ملتے تھے مجھ سے کل جو مجھے پہچانتے تھے
آج مسافر جان کے کیسے رستے وہ انجان ہوئے