فرحت پروین کے اشعار
جیسا کل تھا آج بھی ویسا اور ویسا ہی ہو گا
آج کا کرب اٹھانے میں میں کل کا دکھ بھی سہتی ہوں
دو جہاں پانے کا آ راز بتاؤں تجھ کو
جا کسی پیار بھرے دل میں ٹھکانہ کر لے
یوں دیا کرتے ہیں ہم تلخ نوائی کا جواب
اپنے لہجے میں ذرا اور بھی رس گھولتے ہیں
کیوں بھید کھلے لاچاری کا احسان بھی لیں دل داری کا
آنکھوں کو نہیں ہم کرتے نم پر دل میں سمندر رکھتے ہیں
یوں دیا کرتے ہیں ہم تلخ نوائی کا جواب
اپنے لہجے میں ذرا اور بھی رس گھولتے ہیں