فاروق شفق کا تعارف
تخلص : 'شفق'
اصلی نام : محمد فاروق
پیدائش : 14 Jan 1945 | جون پور, اتر پردیش
وفات : کولکاتا, مغربی بنگال
فاروق شفق کا اصلی نام محمد فاروق اور تخلص شفق ہے، ان کے والد کا نام محمد حنیف ہے۔ فاروق شفق کی ولادت 14 جنوری 1945ء کو جون پور، اترپردیش میں ہوئی تھی۔ جون پور ان کا آبائی وطن بھی ہے۔ تعلیم ایم اے تک تھی اور درس تدریس کے پیشہ سے وابستہ تھے۔ فاروق شفق نے شاعری کا آغاز 1960ء سے کیا۔ انھیں مٹیا برج کے مشہور استاد شاعر ثمر آروی سے شرفِ تلمذ حاصل تھا۔ فاروق شفق کا شعری مجموعہ ”شہرِ آئندہ“ مغربی بنگال اردو کے تعاون سے دسمبر 1988ء میں شائع ہوا تھا۔ بعدازاں فاروق شفق پر مونوگراف بھی مغربی بنگال اردو اکاڈمی کی طرف سے 2016ء میں شائع ہوا جس کے مصنف خورشید اختر فرازی ہیں۔
فاروق شفق کے شعری مجموعہ ”شہرِ آئندہ“ پر اردو ادب میں مابعدجدیدیت کےادبی جحان کو متعارف کرانے والے ممتاز ناقد اور دانشور پروفیسر گوپی چند نارنگ اس طرح اظہارِ خیال کرتے ہیں۔
”غزل میں بنیادی چیز واردات ہے۔ کلاسیکی زمانے میں ایسا ہوتا رہا اور اب بھی غزل میں تازگی اسی راستے سے آتی ہے۔ بیچ میں یہ واردات غائب ہوگئی تھی اور پنچایت باقی رہ گئی تھی۔ معاشرے کی اہمیت سے کس کو انکار ہے لیکن سچی اور اچھی شاعری بھی تو معاشرے کی ضرورت ہے۔ نئی غزل اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے وجود میں آئی اور شاعری کی آبادکاری کے اسی کام لگی ہوئی ہے۔ واردات کا سیدھا رشتہ ذاتی تجربے، انفرادی آہنگ اور شخصی لہجے سے ہے۔ فاروق شفق بھی اسی قبیلے کے فرد ہیں جو دشتِ سفر میں جان کی بازی لگائے ہوئے ہے۔ ان کا بنیادی مسئلہ آدمی کی دریافت ہے جو ہمارے بیچ سے غائب ہوتا جارہا ہے۔ اس کی بحالی اور معاشرے کی الجھنوں میں اس کی زندگی کرنے کی خو اور اس کے چھوٹے بڑے بھید ”شہرِ آئندہ“ ان کے معلوم کرنے کی سعی و جستجو ہے۔“
فاروق شفق کا انتقال 1996ء میں مٹیابرج، کولکاتا میں ہوا۔