فکر تونسوی کے اقوال
جب آپ گھر میں کسی کو گندی گالی نکالتے ہیں، تو آپ کا بچہ اسے ماتری بھاشا کا حصہ سمجھ کر اپنا لیتا ہے۔
کبھی کبھی کوئی انتہائی گھٹیا آدمی آپ کو انتہائی بڑھیا مشورہ دے جاتا ہے۔ مگر آہ! کہ آپ مشورے کی طرف کم دیکھتے ہیں، گھٹیا آدمی کی طرف زیادہ۔
کنواری لڑکی اس وقت تک اپنا برتھ ڈے مناتی رہتی ہے جب تک وہ ہنی مون منانے کے قابل نہیں ہو جاتی۔
خدا نے گناہ کو پہلے پیدا نہیں کیا۔ انسان کو پہلے پیدا کر دیا۔ یہ سوچ کر کہ اب یہ خود بخود گناہ پیدا کرے گا۔
اس عورت کی کسی بھی بات کا اعتبار نہ کرو جو خدا کی قسم کھا کر اپنی عمر صحیح بتادیتی ہے۔
ہمیں دشمن سے جھگڑنے کے بعد ہی وہ گالی یاد آتی ہے جو دشمن کی گالی سے زیادہ کراری اور تیکھی تھی۔
جمہوریت۔۔۔ سرمایہ داری کا وہ خوشنما ہتھیار ہے، جو مزدور کو کبھی سر نہیں ابھارنے دیتا۔
ہم وعدہ کرتے ہیں تو کسی امید پر۔ لیکن جب وعدہ پورا کرنے لگتے ہیں تو کسی ڈر کے مارے۔
عورت اپنی صحیح عمر اس لیے نہیں بتا سکتی کیونکہ اسے اس کی جوانی یاد رہتی ہے، عمر نہیں۔
بیوی آپ کو گھر کا کوئی کام کرنے کے لیے اٹھائے گی مگر کرنے نہیں دے گی۔ کیونکہ اس کام کا کریڈیٹ وہ خود لینا چاہتی ہے۔
عمر عورت کا ایک بیش قیمت زیور ہے جسے وہ ہمیشہ ایک ڈبیہ میں بند رکھتی ہے۔ کبھی کھولتی نہیں۔
مرد کا دل ایک کمرہ ہے جس میں صرف ایک عورت رہ سکتی ہے۔ لیکن دل کے آس پاس بہت سے ایسے کمرے بھی ہوتے ہیں، جو کبھی خالی نہیں رہتے۔
صرف وہی چیز کھانی اور پینی چاہیے، جس کی ہدایت آپ کے ا ندر بیٹھا ہوا ڈاکٹر دے۔
سرمایہ دار کا گناہ اسی طرح خوبصورت ہوتا ہے جیسے اس کی کوٹھی کا مین گیٹ خوبصورت ہوتا ہے۔
آپ سڑک پر تیز رفتار سے آتے ہوئے ٹرک سے اتنا نہیں گھبراتے جتنا اس حادثے کے تصور سے گھبراتے ہیں جو ٹرک گزرنے کے بعد پیش نہیں آتا۔
جوانی، ایک بہت بڑی غلطی ہے۔ ادھیڑ عمر، ایک بہت بڑی جدوجہد۔ بڑھاپا، فقط معذرت۔
بدنیت آدمی کو نیک مشورہ دینا ایسے ہے جیسے ڈاکٹر اپنے غریب مریض کو یہ مشورہ دیتا ہے کہ اس دوائی کےساتھ روزانہ ڈھائی سو گرام انگور بھی کھایا کرو۔
عورت کا زیور چوری ہوجائے تو وہ اپنے خاوند تک کو چور کہنے سے باز نہیں آئے گی۔
انسان وہ کھانے کے لیے مضطرب ہو جاتا ہے جسے کھانے کے لیے اسے منع کر دیا گیا ہو۔
آپ نے گھر کا کوئی بہترین کام کردیا تو اس کی داد آپ کی بیوی سے بھی نہیں ملے گی جو آپ سے بہتر کام کی توقع نہیں رکھتی تھی۔
بے قصور آدمی جب تک قصور نہ کرے سرمایہ دارانہ سماج میں کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔
اگر کسی مسئلے پر دس عالم و فاضل حضرات متفق ہو جائیں تو اس اتفاق رائے میں ضرور کوئی غلطی ہوگی۔
کئی لڑکیاں ایک سگریٹ کی طرح ہوتی ہیں۔ سگریٹ کو سلگاؤ کش کھینچو، اور منہ کا مزا خراب کرو۔۔۔ مگر وہ لڑکیاں آپ کی خرابی پر بڑی مطمئن ہو جاتی ہیں۔
دیانتداری سے بہت رسیلا پھل ملتا ہے۔ مگر کچھ لوگوں کو یہ رسیلا پن ناموزوں لگتا ہے۔
جو آدمی ستر برس کی عمر میں بھی قہقہہ لگا سکتا ہے وہ چالیس سالہ آدمی سے بھی زیادہ جوان ہے۔ جو ایک لطیفہ بھی نہ سن سکتا ہے نہ سنا سکتا ہے۔
تعطیل کے دن اگر آپ معمول سے ہٹ کر نہیں جیتے تو تعطیل کو ذبح کرتے ہیں دوسرے دنوں کی طرح۔
اگر آپ اپنی حماقت کو یقینی بنانا چاہتے ہیں تو دانشمندوں کی محفل میں جاکر بیٹھ جائیے جو آپ سے کم احمقانہ باتیں نہیں کرتے۔
ایک آزاد آدمی فقط اس وقت آزاد ہے جب تک وہ اپنی زندگی کو منصوبہ بندی کا غلام نہیں بنا لیتا۔
سانپ نے آدم کو دانہ گندم کھلانے کا مشورہ اس ڈر سے دیا تھا کہ کہیں آدم سانپ کو ہی نہ کھا جائیں۔
جس عورت کی عمر اپنے خاوند کی عمر سے بیس سال زیادہ ہو، وہ اپنے خاوند کو ’’والد صاحب‘‘ بھی کہہ سکتی ہے۔
ہر آدمی اس وقت دانت کاٹنے کو دوڑتا ہے جب وہ مصنوعی دانتوں کی پلیٹ لگاچکا ہوتا ہے۔