Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Gulshan Mehra's Photo'

گلشن مہرا

1981 | دلی, انڈیا

گلشن مہرا کے اشعار

مجھے تم کیا بتاؤگے حدوں سے پار کیا کیا ہے

جہاں تم جا رہے ہو نا وہاں سے لوٹ آیا میں

ترے بیمار کا گلدستوں سے چہرہ نہیں کھلتا

مجھے اپنی کوئی ہنستی ہوئی تصویر بھیجا کر

اسے ہر حال میں یکجا کروں گا

وہ ٹوٹا شخص میرا آئنہ ہے

میں اپنے آپ سے اک شرط ہارا ہوں بتاؤں کیا

مجھے لگتا تھا میرا دل کبھی پتھر نہیں ہوگا

جسے بھی چاہیے با شوق رکھ لے

یہ اک پتھر جو مجھ میں دل نما ہے

یہ درد جو تم کو ہے دیا تم سے ملا تھا

ہم نے کوئی سامان تمہارا نہیں رکھا

فقط کہنے کی باتیں ہیں کسے کس کا سہارا ہے

تمہارا غم تمہارا ہے ہمارا غم ہمارا ہے

کوئی بتلائے مری پیاس کی شدت ان کو

جو یہ پوچھے ہیں کیوں پیتا ہوں میں پانی کی طرح

ہم دوانوں کو دوانے ہی ملے اچھا ہوا

دل کہ باتیں دل کو سمجھانے میں آسانی رہی

Recitation

بولیے