گلشن مہرا کے اشعار
مجھے تم کیا بتاؤگے حدوں سے پار کیا کیا ہے
جہاں تم جا رہے ہو نا وہاں سے لوٹ آیا میں
ترے بیمار کا گلدستوں سے چہرہ نہیں کھلتا
مجھے اپنی کوئی ہنستی ہوئی تصویر بھیجا کر
میں اپنے آپ سے اک شرط ہارا ہوں بتاؤں کیا
مجھے لگتا تھا میرا دل کبھی پتھر نہیں ہوگا
جسے بھی چاہیے با شوق رکھ لے
یہ اک پتھر جو مجھ میں دل نما ہے
یہ درد جو تم کو ہے دیا تم سے ملا تھا
ہم نے کوئی سامان تمہارا نہیں رکھا
فقط کہنے کی باتیں ہیں کسے کس کا سہارا ہے
تمہارا غم تمہارا ہے ہمارا غم ہمارا ہے
کوئی بتلائے مری پیاس کی شدت ان کو
جو یہ پوچھے ہیں کیوں پیتا ہوں میں پانی کی طرح