Habib Jalib's Photo'

حبیب جالب

1928 - 1993 | لاہور, پاکستان

مقبول انقلابی پاکستانی شاعر ، سیاسی جبر کی مخالفت کے لئے مشہور

مقبول انقلابی پاکستانی شاعر ، سیاسی جبر کی مخالفت کے لئے مشہور

حبیب جالب کے ویڈیو

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر

حبیب جالب

حبیب جالب

حبیب جالب

حبیب جالب

حبیب جالب

حبیب جالب

حبیب جالب

حبیب جالب

حبیب جالب

حبیب جالب

حبیب جالب

14-اگست

کہاں ٹوٹی ہیں زنجیریں ہماری حبیب جالب

Sar-e-Mimber Wo Khwabon Ke Mehal Tameer Karte Hein

حبیب جالب

اٹھو مرنے کا حق استعمال کرو

جینے کا حق سامراج نے چھین لیا حبیب جالب

مولانا

بہت میں نے سنی ہے آپ کی تقریر مولانا حبیب جالب

اپنوں نے وہ رنج دئے ہیں بیگانے یاد آتے ہیں

حبیب جالب

بگیا لہولہان

ہریالی کو آنکھیں ترسیں بگیا لہولہان حبیب جالب

بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئی پیارے

حبیب جالب

دستور

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے حبیب جالب

ریفرنڈم

شہر میں ہو کا عالم تھا حبیب جالب

شعر سے شاعری سے ڈرتے ہیں

حبیب جالب

صحافی سے

قوم کی بہتری کا چھوڑ خیال حبیب جالب

ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا حبیب جالب

ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا حبیب جالب

مشیر

میں نے اس سے یہ کہا حبیب جالب

ملاقات

جو ہو نہ سکی بات وہ چہروں سے عیاں تھی حبیب جالب

ملاقات

جو ہو نہ سکی بات وہ چہروں سے عیاں تھی حبیب جالب

میرؔ_و_غالبؔ بنے یگانہؔ بنے

حبیب جالب

وہی حالات ہیں فقیروں کے

حبیب جالب

ہم نے سنا تھا صحن‌_چمن میں کیف کے بادل چھائے ہیں

حبیب جالب

ویڈیو کا زمرہ
شاعری
A clip from the 1988 documentary on Pakistani leftwing poet Habib Jalib.

A clip from the 1988 documentary on Pakistani leftwing poet Habib Jalib. حبیب جالب

ویڈیو کا زمرہ
دیگر
دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں فریدہ خانم

بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئی پیارے

بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئی پیارے ملکہ پکھراج

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں نامعلوم

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں حبیب جالب

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں منی بیگم

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں استاد رئیس خان

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں نامعلوم

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں مہدی حسن

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں نامعلوم

ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا نامعلوم

مشیر

مشیر نامعلوم

کلام شاعر بہ زبان شاعر

شاعری

دیگر

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے