Hakeem Manzoor's Photo'

حکیم منظور

1937

حکیم منظور

غزل 29

اشعار 16

ہر ایک آنکھ کو کچھ ٹوٹے خواب دے کے گیا

وہ زندگی کو یہ کیسا عذاب دے کے گیا

گرے گی کل بھی یہی دھوپ اور یہی شبنم

اس آسماں سے نہیں اور کچھ اترنے کا

شہر کے آئین میں یہ مد بھی لکھی جائے گی

زندہ رہنا ہے تو قاتل کی سفارش چاہیئے

مجھ میں تھے جتنے عیب وہ میرے قلم نے لکھ دیئے

مجھ میں تھا جتنا حسن وہ میرے ہنر میں گم ہوا

ہم کسی بہروپئے کو جان لیں مشکل نہیں

اس کو کیا پہچانیے جس کا کوئی چہرا نہ ہو

کتاب 6

خوشبو کا نام نیا

 

1991

لہو لمس چنار

 

1982

ناتمام

 

1977

ناتمام

 

1977

شعر آسمان

 

 

سخن برف زار

 

2003