حامی گورکھپوری کے اشعار
کونسا نام دیں ایسی برسات کو جس کے دامن میں پانی بھی ہے آگ بھی
ہوک اٹھتی رہی روح جلتی رہی دل پگھلتا رہا اشک ڈھلتے رہے
شہر در شہر یہ خاک و خوں کی فضا سوچی سمجھی ہوئی ایک تحریک ہے
اونچے محلوں میں بیٹھے رہے اہل زر مفلسوں کے مکانات جلتے رہے