Hamid Mukhtar Hamid's Photo'

حامد مختار حامد

مظفر نگر, ہندوستان

حامد مختار حامد کے اشعار

یہ جفاؤں کی سزا ہے کہ تماشائی ہے تو

یہ وفاؤں کی سزا ہے کہ پئے دار ہوں میں

گر نہ جائے ترے معیار سے انداز حروف

یوں کبھی نام بھی تیرا نہیں لکھا میں نے

آج کا خط ہی اسے بھیجا ہے کورا لیکن

آج کا خط ہی ادھورا نہیں لکھا میں نے

عمر ہی تیری گزر جائے گی ان کے حل میں

تیرا بچہ جو سوالات لیے بیٹھا ہے

یہ بزرگوں کی روا داری کے پژمردہ گلاب

آبیاری چاہتے ہیں ان میں چنگاری نہ رکھ

تو ہنسی لے کے مری آنکھ کو آنسو دے دے

مجھ سے سوکھا ہوا دریا نہیں دیکھا جاتا

مجھ سے یہ پیاس کا صحرا نہیں دیکھا جاتا

روز اب خواب میں دریا نہیں دیکھا جاتا

مقام ضبط غم عشق میں وہ پیدا کر

کہ تو خوشی کو نہ ترسے تجھے خوشی ترسے