noImage

حسرتؔ عظیم آبادی

1727 - 1795 | پٹنہ, ہندوستان

میر تقی میر کے ہمعصر،دبستان عظیم آباد کے نمائندہ شاعر

میر تقی میر کے ہمعصر،دبستان عظیم آباد کے نمائندہ شاعر

129
Favorite

باعتبار

عشق میں خواب کا خیال کسے

نہ لگی آنکھ جب سے آنکھ لگی

بھر کے نظر یار نہ دیکھا کبھی

جب گیا آنکھ ہی بھر کر گیا

برا نہ مانے تو اک بات پوچھتا ہوں میں

کسی کا دل کبھی تجھ سے بھی خوش ہوا ہرگز

مے کشی میں رکھتے ہیں ہم مشرب درد شراب

جام مے چلتا جہاں دیکھا وہاں پر جم گئے

زلف کلمونہی کو پیارے اتنا بھی سر مت چڑھا

بے محابا منہ پہ تیرے پاؤں کرتی ہے دراز

محبت ایک طرح کی نری سماجت ہے

میں چھوڑوں ہوں تری اب جستجو ہوا سو ہوا

میں حسرتؔ مجتہد ہوں بت پرستی کی طریقت کا

نہ پوچھو مجھ کو کیسا کفر ہے اسلام کیا ہوگا

ہم نہ جانیں کس طرف کعبہ ہے اور کیدھر ہے دیر

ایک رہتی ہے یہی اس در پہ جانے کی خبر

حق ادا کرنا محبت کا بہت دشوار ہے

حال بلبل کا سنا دیکھا ہے پروانے کو ہم

رہے ہے نقش میرے چشم و دل پر یوں تری صورت

مصور کی نظر میں جس طرح تصویر پھرتی ہے

کھیلیں آپس میں پری چہرہ جہاں زلفیں کھول

کون پوچھے ہے وہاں حال پریشاں میرا

مت ہلاک اتنا کرو مجھ کو ملامت کر کر

نیک نامو تمہیں کیا مجھ سے ہے بد نام سے کام

سوگند ہے حسرت مجھے اعجاز سخن کی

یہ سحر ہیں جادو ہیں نہ اشعار ہیں تیرے

نا خلف بسکہ اٹھی عشق و جنوں کی اولاد

کوئی آباد کن خانۂ زنجیر نہیں

ماخوذ ہوگے شیخ ریا کار روز حشر

پڑھتے ہو تم عذاب کی آیات بے طرح

زاہدا کس حسن گندم گوں پہ ہے تیری نگاہ

آج تو میری نظر میں گونۂ آدم لگا

تا ابد خالی رہے یارب دلوں میں اس کی جا

جو کوئی لاوے مرے گھر اس کے آنے کی خبر

اس جہاں میں صفت عشق سے موصوف ہیں ہم

نہ کرو عیب ہمارے ہنر ذاتی کا

اٹھوں دہشت سے تا محفل سے اس کی

عتاب اس کا ہے ہر اک ہم نشیں پر

ساقیا پیہم پلا دے مجھ کو مالا مال جام

آیا ہوں یاں میں عذاب ہوشیاری کھینچ کر

سجدہ گاہ برہمن اور شیخ ہیں دیر و حرم

مے پرستوں کے لیے بنیاد مے خانے ہوئے

کافر عشق ہوں اے شیخ پہ زنہار نہیں

تیری تسبیح کو نسبت مری زنار کے ساتھ

دنیا کا و دیں کا ہم کو کیا ہوش

مست آئے و بے خبر گئے ہم

گل کبھو ہم کو دکھاتی ہے کبھی سرو و سمن

اپنے گل رو بن ہمیں کیا کیا کھجاتی ہے بہار

نبھے تھی آن انہوں کی ہمیشہ عشق میں خوب

تمہارے دور میں میری گدا ہوئیں آنکھیں