حیات اللہ انصاری کا تعارف
شناخت: معروف فکشن نگار، صحافی، سیاست دان اور ترقی پسند ادیب
حیات اللہ انصاری 11 مئی 1911ء (اہل خانہ کے مطابق تاریخ پیدائش یکم مئی 1901 ہے) کو فرنگی محل، لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مولوی وحید اللہ انصاری تھے۔ ابتدائی تعلیم فرنگی محل کے علمی ماحول میں ہوئی اور علومِ شرقیہ کی سند حاصل کی۔ بعد ازاں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے بی اے کیا۔ طالب علمی کے زمانے میں ترقی پسند ادبی تحریک سے متاثر ہوئے، جبکہ بعد میں گاندھیائی فلسفے سے بھی گہرا اثر قبول کیا۔
حیات اللہ انصاری اردو کے ممتاز افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے افسانوی مجموعوں ’’انوکھی مصیبت‘‘، ’’بھرے بازار میں‘‘ اور ’’شکستہ کنگورے‘‘ کو خاص شہرت حاصل ہوئی۔ ان کا افسانہ ’’آخری کوشش‘‘ اردو افسانے کی اہم تخلیقات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کے افسانوں میں سماجی حقیقت نگاری، انسانی دکھ درد، طبقاتی مسائل اور نفسیاتی پیچیدگیوں کی مؤثر عکاسی ملتی ہے۔ ڈاکٹر عشرت ناہید نے ان کے افسانوں کا کلیات ’’حیات اللہ انصار ی کی کہانی کائنات ‘‘کے نام سے شائع کیا۔
افسانہ نگاری کے علاوہ انہوں نے پانچ جلدوں پر مشتمل ایک عظیم اور ضخیم ناول ’’لہو کے پھول‘‘ (1969ء) قلمبند کیا، جس کا پس منظر بیسویں صدی کے نصف اول کا ہندوستان، تحریکِ آزادی، خلافت تحریک اور کسانوں و مزدوروں کی زندگی ہے، جسے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ ’’مدار‘‘ اور ’’گھروندا‘‘ ان کے معروف ناولٹ ہیں۔ انہوں نے جدیدیت کے موضوع پر 'جدیدیت کی سیر' ایک اہم کتاب تحریر کی۔
صحافت کے میدان میں بھی ان کی خدمات نمایاں ہیں۔ وہ طویل عرصے تک روزنامہ ’’قومی آواز‘‘ کے مدیر رہے اور اردو صحافت کو نئی جہتیں عطا کیں۔ وہ راجیہ سبھا کے رکن بھی رہے اور ترقیِ اردو بیورو، حکومتِ ہند کے ڈپٹی چیئرمین کے عہدے پر بھی فائز ہوئے۔ مراکش یونیورسٹی نے انہیں اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے بھی نوازا۔
حیات اللہ انصاری کا شمار ان ادیبوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ترقی پسند فکر، گاندھیائی انسان دوستی اور سماجی شعور کو اپنے ادب کا حصہ بنایا۔ اردو فکشن اور صحافت میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
وفات: حیات اللہ انصاری کا انتقال 18 فروری 1999 لکھنو میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Hayatullah_Ansari
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n85019760