Ibraheem Hosh's Photo'

ابراہیم ہوش

1918 - 1988 | کولکاتا, ہندوستان

روتے روتے مرے ہنسنے پہ تعجب نہ کرو

ہے وہی چیز مگر دوسرے انداز میں ہے

ان ہزاروں میں اور آپ، یہ کیا؟

آپ، جو ایک تھے ہزاروں میں

لفظوں سے بنا انساں لفظوں ہی میں رہتا ہے

لفظوں سے سنورتا ہے لفظوں سے بگڑتا ہے

طے کر کے دل کا زینہ وہ اک قطرہ خون کا

پلکوں کی چھت تک آیا تو لیکن گرا نہیں

کرتا ہوں ایک خواب کے مبہم نقوش یاد

جب سے کھلی ہے آنکھ اسی مشغلے میں ہوں

آج زنداں میں اسے بھی لے گئے

جو کبھی اک لفظ تک بولا نہیں

جو چپ لگاؤں تو صحرا کی خامشی جاگے

جو مسکراؤں تو آزردگی بھی شرمائے

مری نظر میں ہے انجام اس تعاقب کا

جہاں بھی دوستی جاتی ہے دشمنی جائے

یادوں نے لے لیا مجھے اپنے حصار میں

میرا وجود حافظہ بن کر سکڑ گیا