اندرجیت لال کا تعارف
شناخت: صحافی، معلوماتی سائنس کے ادیب، ادب اطفال کے قلم کار اور مزاح نگار
اندر جیت لال 21 اکتوبر 1926ء کو کوہ مری (راولپنڈی) میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد دہلی منتقل ہو گئے۔ انہوں نے ایم اے (انگریزی ادب)، آنرز اِن اردو اور ڈپلومہ اِن جرنلزم کی تعلیم حاصل کی۔ عملی زندگی کا آغاز اردو اخبارات "پرتاپ" اور "بندے ماترم" سے کیا، بعد ازاں "انڈین ایکسپریس" سے وابستہ ہو گئے۔ 1959ء میں ایک قومی اشاعتی ادارے کے اداراتی شعبے میں شامل ہوئے اور 1986ء میں بطور ایڈیٹر سبکدوش ہوئے۔
صحافت کے ساتھ ساتھ ان کی ادبی سرگرمیاں سائنسی مضامین، تاریخ، سوانح نگاری، فنونِ لطیفہ، بچوں کے ادب اور طنز و مزاح تک پھیلی ہوئی تھیں۔ آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی سے ان کے تاریخی، ثقافتی اور مزاحیہ پروگرام بھی نشر ہوتے رہے۔
اندر جیت لال کا شمار اردو میں بچوں کے لیے سائنسی ادب لکھنے والے ممتاز مصنفین میں ہوتا ہے۔ انہوں نے سائنسی موضوعات کو نہایت آسان، دلچسپ اور معلوماتی انداز میں پیش کیا۔ ان کی تحریروں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ سائنس کے ساتھ ہندوستانی تہذیب، فلسفے، تاریخ اور سائنس دانوں کا بھی ذکر کرتے ہیں، جس سے بچوں میں علمی شعور کے ساتھ تہذیبی آگہی بھی پیدا ہوتی ہے۔
ان کی اہم تصانیف میں "آج کی سائنس"، "نیا ہندوستان"، "سائنس اور ہندوستان"، "ایٹم کی کہانی"، "سائنس کی باتیں"، "ہمارے سائنس داں"، "ہم اور ہمارے بچے"، "ہمارے قومی ہیرو"، "ببر شیر کی کہانی"، "گیہوں، کاشت اور کھوج"، "پھل پھول اناج" اور "جانور سے انسان تک" شامل ہیں۔ ان کی متعدد کتابوں کو قومی سطح پر انعامات سے نوازا گیا۔
اردو کے علاوہ انہوں نے انگریزی میں بھی تصنیفی خدمات انجام دیں۔ ان کی انگریزی تصانیف میں Candle Smoke (غالب کی حیات و شاعری) اور A Short Biography of Mirza Ghalib (حیاتِ غالب) خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
وفات: 6 جون 1990 کو دہلی میں انتقال ہوا۔