Irfan Siddiqi's Photo'

عرفان صدیقی

1939 - 2004 | لکھنؤ, ہندوستان

اہم ترین جدید شاعروں میں شامل، اپنے نوکلاسیکی لہجے کے لیے معروف

اہم ترین جدید شاعروں میں شامل، اپنے نوکلاسیکی لہجے کے لیے معروف

غزل

انہیں کی شہ سے انہیں مات کرتا رہتا ہوں

نعمان شوق

اٹھو یہ منظر_شب_تاب دیکھنے کے لیے

نعمان شوق

بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے

نعمان شوق

توڑ دی اس نے وہ زنجیر ہی دل_داری کی

نعمان شوق

جب یہ عالم ہو تو لکھیے لب_و_رخسار پہ خاک

نعمان شوق

چراغ دینے لگے_گا دھواں نہ چھو لینا

نعمان شوق

ختم ہو جنگ خرابے پہ حکومت کی جائے

نعمان شوق

خوشبو کی طرح ساتھ لگا لے گئی ہم کو

نعمان شوق

ذرا سا وقت کہیں بے_سبب گزارتے ہیں

نعمان شوق

زمیں پر شور_محشر روز و شب ہوتا ہی رہتا ہے

نعمان شوق

زوال_شب میں کسی کی صدا نکل آئے

نعمان شوق

زیر_محراب نہ بالائے_مکاں بولتی ہے

نعمان شوق

سر_تسلیم ہے خم اذن_عقوبت کے بغیر

نعمان شوق

شعلۂ_عشق بجھانا بھی نہیں چاہتا ہے

نعمان شوق

فقیری میں یہ تھوڑی سی تن_آسانی بھی کرتے ہیں

نعمان شوق

مروتوں پہ وفا کا گماں بھی رکھتا تھا

نعمان شوق

میرے ہونے میں کسی طور سے شامل ہو جاؤ

نعمان شوق

وحشت کے ساتھ دشت مری جان چاہیئے

نعمان شوق

وہ ان دنوں تو ہمارا تھا لیکن اب کیا ہے

نعمان شوق

وہ جو اک شرط تھی وحشت کی اٹھا دی گئی کیا

نعمان شوق

کچھ حرف و سخن پہلے تو اخبار میں آیا

نعمان شوق

کوئی بجلی ان خرابوں میں گھٹا روشن کرے

نعمان شوق

کہیں تو لٹنا ہے پھر نقد_جاں بچانا کیا

نعمان شوق

یہ شہر_ذات بہت ہے اگر بنایا جائے

نعمان شوق

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI