Ishrat Qadri's Photo'

عشرت قادری

1926

ان اندھیروں سے پرے اس شب غم سے آگے

اک نئی صبح بھی ہے شام الم سے آگے

وہ تیرے بچھڑنے کا سماں یاد جب آیا

بیتے ہوئے لمحوں کو سسکتے ہوئے دیکھا

کون دیکھے گا مجھ میں اب چہرہ

آئینہ تھا بکھر گیا ہوں میں

ظاہری شکل میری زندہ ہے

اور اندر سے مر گیا ہوں میں

یوں زندگی گزر رہی ہے میری

جو ان کی ہے وہی خوشی ہے میری

اک سایہ شرماتا لجاتا راہ میں تنہا چھوڑ گیا

میں پرچھائیں ڈھونڈ رہا ہوں ٹوٹی ہوئی دیواروں پر