Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Jamuna Parsad Rahi's Photo'

جمنا پرشاد راہیؔ

علی گڑہ, انڈیا

جمنا پرشاد راہیؔ کے اشعار

879
Favorite

باعتبار

جو سنتے ہیں کہ ترے شہر میں دسہرا ہے

ہم اپنے گھر میں دوالی سجانے لگتے ہیں

کچی دیواریں صدا نوشی میں کتنی طاق تھیں

پتھروں میں چیخ کر دیکھا تو اندازا ہوا

کشتیاں ڈوب رہی ہیں کوئی ساحل لاؤ

اپنی آنکھیں مری آنکھوں کے مقابل لاؤ

گاؤں سے گزرے گا اور مٹی کے گھر لے جائے گا

ایک دن دریا سبھی دیوار و در لے جائے گا

صدیوں کا انتشار فصیلوں میں قید تھا

دستک یہ کس نے دی کہ عمارت بکھر گئی

عجیب آگ لگا کر کوئی روانہ ہوا

مرے مکان کو جلتے ہوئے زمانہ ہوا

لوٹ بھی آیا تو صدیوں کی تھکن لائے گا

صبح کا بھولا ہوا شام کو گھر آنے تک

کون ہے تجھ سا جو بانٹے مری دن بھر کی تھکن

مضمحل رات ہے بستر کا بدن دکھتا ہے

ہر روح پس پردۂ ترتیب عناصر

ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہی ہے

اماں کسے تھی مرے سائے میں جو رکتا کوئی

خود اپنی آگ میں جلتا ہوا شجر تھا میں

اک رات ہے پھیلی ہوئی صدیوں پر

ہر لمحہ اندھیروں کے اثر میں ہے

ہوا کی گود میں موج سراب بھی ہوگی

گریں گے پھول تو ٹھہرے گی گرد شاخوں پر

میں لفظ خام ہوں کوئی کہ ترجمان غزل

یہ فیصلہ کسی تازہ کتاب پر ٹھہرا

سمند خواب وہاں چھوڑ کر روانہ ہوا

جہاں سراغ سفر کوئی نقش پا نہ ہوا

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے