Javed Shaheen's Photo'

جاوید شاہین

1922 - 2008 | لاہور, پاکستان

205
Favorite

باعتبار

جمع کرتی ہے مجھے رات بہت مشکل سے

صبح کو گھر سے نکلتے ہی بکھرنے کے لیے

کچھ زمانے کی روش نے سخت مجھ کو کر دیا

اور کچھ بے درد میں اس کو بھلانے سے ہوا

ڈوبنے والا تھا دن شام تھی ہونے والی

یوں لگا مری کوئی چیز تھی کھونے والی

خود بنا لیتا ہوں میں اپنی اداسی کا سبب

ڈھونڈ ہی لیتی ہے شاہیںؔ مجھ کو ویرانی مری

تھوڑا سا کہیں جمع بھی رکھ درد کا پانی

موسم ہے کوئی خشک سا برسات سے آگے

جدا تھی بام سے دیوار در اکیلا تھا

مکیں تھے خود میں مگن اور گھر اکیلا تھا

سمجھ رہا ہے زمانہ ریا کے پیچھے ہوں

میں ایک اور طرح سے خدا کے پیچھے ہوں

مزہ تو جب ہے اداسی کی شام ہو شاہیںؔ

اور اس کے بیچ سے شام طرب نکل آئے

حساب دوستاں کرنے ہی سے معلوم یہ ہوگا

خسارے میں ہوں یا اب میں خسارے سے نکل آیا

کہیں صدائے جرس ہے نہ گرد راہ سفر

ٹھہر گیا ہے کہاں قافلہ تمنا کا

میں نے دیکھا ہے چمن سے رخصت گل کا سماں

سب سے پہلے رنگ مدھم ایک کونے سے ہوا

کس طرح بے موج اور خالی روانی سے ہوا

بے خبر دریا کہاں پر اپنے پانی سے ہوا

خطا کس کی ہے تم ہی وقت سے باہر رہے شاہیںؔ

تمہیں آواز دینے ایک لمحہ دور تک آیا

اجنبی بود و باش کے قرب و جوار میں ملا

بچھڑا تو وہ مجھے کسی اور دیار میں ملا