جاوید انور کا تعارف
جاوید انور 18 اپریل 1959 کو لاہور (پنجاب، پاکستان) کے علاقے اسلام پورہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق بھٹی خاندان سے تھا جو تقسیمِ ہند کے بعد مشرقی پنجاب سے پاکستان منتقل ہوا تھا۔ ان کے والد انور علی بھٹی محکمۂ انہار پنجاب میں سرکاری ملازم تھے جبکہ والدہ ناصر اختر کا تعلق جالندھر سے تھا۔ جویَد انور نے اپنا بچپن سرگودھا کے علاقے شاہین آباد میں گزارا۔ ابتدائی تعلیم سرگودھا کے گورنمنٹ پرائمری اسکول میں حاصل کی، بعد ازاں پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد اور اورینٹل کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی اور لاہور جنرل ہسپتال اور علامہ اقبال میڈیکل کالج میں بطور معالج خدمات انجام دیں۔ وہ ماہرِ نفسیات بھی تھے اور اردو، انگریزی، جرمن اور فارسی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔
جاوید انور کو اردو شاعری سے شغف نوجوانی ہی میں ہو گیا تھا۔ سرگودھا میں قیام کے دوران وہ خورشید رضوی، غلام السقلین نقوی اور وزیر آغا جیسے ادبی شخصیات کی صحبت میں رہے، جس نے ان کے شعری ذوق کو جِلا بخشی۔ انہوں نے نویں یا دسویں جماعت کے زمانے میں شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری خصوصاً نظم کے میدان میں نمایاں مقام رکھتی ہے اور انہیں جدید اردو نظم کے اہم شعرا میں شمار کیا جاتا ہے۔
ان کا پہلا شعری مجموعہ ’شہر میں شام‘ 1991 میں شائع ہوا۔ بعد ازاں ان کے دیگر مجموعوں میں ’بھیڑیے سوئے نہیں‘ اور ’اشکوں میں دھنک‘ شامل ہیں۔ ان کی نظم ’ہم کہ ہیرو نہیں‘ خاصی مقبول ہوئی اور جدید اردو شاعری کے مباحث میں زیرِ گفتگو رہی۔ انہوں نے مسعود قمر اور حسین عابد کے ساتھ مل کر ’قہقہہ انسان نے ایجاد کیا‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی تحریر کی۔ ان کے بعض غیر مطبوعہ کلام کو بعد از مرگ 2016 میں ’برزخ کے پھول‘ کے عنوان سے شائع کیا گیا۔
25 نومبر 2011 کو لاہور میں اچانک دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی وفات کے بعد اردو ادبی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا اور ان کی یاد میں مختلف ادبی تقریبات منعقد کی گئیں۔