Jazib Quraishi's Photo'

جاذب قریشی

1940 - 2021 | کراچی, پاکستان

جاذب قریشی کی اشعار

کیوں مانگ رہے ہو کسی بارش کی دعائیں

تم اپنے شکستہ در و دیوار تو دیکھو

تیری یادوں کی چمکتی ہوئی مشعل کے سوا

میری آنکھوں میں کوئی اور اجالا ہی نہیں

دفتر کی تھکن اوڑھ کے تم جس سے ملے ہو

اس شخص کے تازہ لب و رخسار تو دیکھو

مری شاعری میں چھپ کر کوئی اور بولتا ہے

سر آئنہ جو دیکھوں تو وہ شخص دوسرا ہے

دیکھ لے ذرا آ کر آنسوؤں کے آئینے

میں سجا کے پلکوں پر تیرا پیار لایا ہوں

جب بھی آتا ہے وہ میرے دھیان میں

پھول رکھ جاتا ہے روشن دان میں

تیری خوشبو پیار کے لہجے میں بولے تو سہی

دل کی ہر دھڑکن کو اک چہرہ نیا مل جائے گا

کچھ میرے دھڑکتے ہوئے دل نے بھی پکارا

کچھ آپ کو بازار میں دھوکا بھی ہوا ہے

مرے وجود کے خوشبو نگار صحرا میں

وہ مل گئے ہیں تو مل کر بچھڑ بھی سکتے ہیں