Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Jilani Bano's Photo'

جیلانی بانو

1936 - 2026 | حیدر آباد, انڈیا

نامور خاتون فکشن رائیٹر اور مترجم ۔ مشہور ناول’ایوان غزل‘ کی مصنفہ اور پدم شری

نامور خاتون فکشن رائیٹر اور مترجم ۔ مشہور ناول’ایوان غزل‘ کی مصنفہ اور پدم شری

جیلانی بانو کا تعارف

پیدائش : 14 Jul 1936 | بدایوں, اتر پردیش

وفات : 01 Mar 2026 | حیدر آباد, تلنگانہ

LCCN :n85211062

شناخت: ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار، نسائی و سماجی شعور کی ترجمان اور حیدرآبادی تہذیب کی معتبر داستان گو

جیلانی بانو 14 جولائی 1936ء کو بدایوں، اتر پردیش میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد حیرت بدایونی اپنے زمانے کے معروف شاعر تھے، اسی ادبی ورثے نے بچپن ہی سے ان کے اندر ادب کا ذوق پیدا کیا۔ بعد ازاں ان کا خاندان حیدرآباد دکن منتقل ہو گیا، جہاں ان کی پرورش ایک نہایت ادبی و علمی ماحول میں ہوئی۔ ان کے گھر میں سجاد ظہیر، مخدوم محی الدین، جگر مرادآبادی، کرشن چندر، مجروح سلطان پوری اور دیگر ممتاز اہلِ قلم کی آمد و رفت رہتی تھی، جس نے ان کی ذہنی و ادبی تربیت میں گہرا اثر ڈالا۔

ان کی پہلی کہانی "ایک نظر ادھر بھی" 1952ء میں لکھی گئی، جبکہ افسانہ "موم کی مریم" کی اشاعت نے انہیں غیر معمولی شہرت بخشی اور اردو افسانے میں ان کی شناخت مستحکم کر دی۔

جیلانی بانو کا شمار اردو کی ان اہم فکشن نگاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے حیدرآبادی تہذیب، جاگیردارانہ معاشرت، طبقاتی کشمکش، نسائی مسائل اور انسانی محرومیوں کو اپنے فن کا موضوع بنایا۔ ان کے افسانوں اور ناولوں میں سماج کے پسے ہوئے طبقے، خصوصاً عورت، محکوم اور مظلوم انسان، مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا واضح مؤقف تھا کہ وہ محض عورت کے مسائل نہیں بلکہ انسانیت کے مسائل پر لکھتی ہیں۔

اہم تصانیف کی فہرست:

افسانوی مجموعے: روشنی کے مینار، پرایا گھر، روز کا قصہ، یہ کون ہنسا، تریاق، سچ کے سوا، کن، راستہ بند ہے۔

ناول اور ناولٹ: ایوانِ غزل، بارشِ سنگ، نروان، نغمے کا سفر، جگنو اور ستارے۔

دیگر: نرسیا کی باوڑی (ڈرامہ)، میں کون ہوں (خودنوشت)، دور کی آوازیں (خطوط)۔

ان کا ناول "ایوانِ غزل" اردو ادب میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں حیدرآباد دکن کی زوال پذیر جاگیردارانہ تہذیب، تلنگانہ تحریک، تقسیمِ ہند کے اثرات اور سلطنتِ آصفیہ کے انہدام کو فنکارانہ گہرائی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اسی طرح "بارشِ سنگ" بھی ایک اہم نظریاتی ناول مانا جاتا ہے، جس میں سماجی، نفسیاتی اور سیاسی کشمکش کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔

جیلانی بانو نے افسانہ و ناول کے علاوہ ڈرامہ، ترجمہ، مضمون نگاری اور اسکرپٹ نگاری میں بھی کام کیا۔ حیدرآباد پر بننے والی معروف ڈاکومنٹری "حیدرآباد: ایک شہر، ایک تہذیب" کا اسکرپٹ بھی انہوں نے تحریر کیا۔

ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد اہم اعزازات سے نوازا گیا، جن میں آندھرا پردیش ساہتیہ اکادمی ایوارڈ (1960ء)، سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ (1985ء)، قومی حالی ایوارڈ از ہریانہ اردو اکادمی (1989ء) اور حکومتِ ہند کا ممتاز شہری اعزاز پدم شری (2001ء) شامل ہیں۔

اردو ادب میں جیلانی بانو کی حیثیت ایک ایسی حساس اور باوقار تخلیق کار کی ہے جس نے عورت، معاشرہ، تہذیب، تاریخ اور انسانی المیوں کو گہرے فکری و فنی شعور کے ساتھ اپنے ادب کا حصہ بنایا اور اردو فکشن کو ایک منفرد جہت عطا کی۔

وفات: 1 مارچ 2026ء کو انتقال ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے