Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Karan Bedi's Photo'

کرن بیدی

2002 | دلی, انڈیا

کرن بیدی کے اشعار

باعتبار

سب بیچنے میں ہی لگے ہیں کچھ نہ کچھ یہاں

دنیا دکھائی دیتی ہے بازار کی طرح

ہر ایک شخص میں اس کو تلاشتا ہوں میں

وہ مجھ کو اپنا طلب گار کر کے چھوڑ گیا

کلہاڑی پیر پہ اپنے ہی مار لیتے ہیں

شجر کو کاٹ کے سایا تلاش کرتے ہیں

ہر ایک شخص میں اس کو تلاشتا ہوں میں

وہ مجھ کو اپنا طلبگار کر کے چھوڑ گیا

تا عمر مجھ کو کوئی سہارا نہ مل سکا

آنسو نکل پڑے ہیں عزادار دیکھ کر

مجھ کو لگا وہ سن رہا ہے غور سے مگر

بیٹھا ہوا تھا سامنے دیوار کی طرح

برائی کرنا عادت میں نہیں ہے

وگرنہ خوبی بتلاتے تمہاری

برائی کرنا عادت میں نہیں ہے

وگرنہ خوبی بتلاتے تمہاری

ہم سے پہلے بھی تھے اس راہ پہ چلنے والے

اب یہی سوچ کے رکتے ہیں یہاں دوسرے لوگ

جدا ہو کے تو ہم مرے ہی نہیں

کہاں ہم کو مر کر جدا ہونا تھا

Recitation

بولیے