کرن بیدی کے اشعار
سب بیچنے میں ہی لگے ہیں کچھ نہ کچھ یہاں
دنیا دکھائی دیتی ہے بازار کی طرح
ہر ایک شخص میں اس کو تلاشتا ہوں میں
وہ مجھ کو اپنا طلب گار کر کے چھوڑ گیا
کلہاڑی پیر پہ اپنے ہی مار لیتے ہیں
شجر کو کاٹ کے سایا تلاش کرتے ہیں
ہر ایک شخص میں اس کو تلاشتا ہوں میں
وہ مجھ کو اپنا طلبگار کر کے چھوڑ گیا
تا عمر مجھ کو کوئی سہارا نہ مل سکا
آنسو نکل پڑے ہیں عزادار دیکھ کر
مجھ کو لگا وہ سن رہا ہے غور سے مگر
بیٹھا ہوا تھا سامنے دیوار کی طرح
ہم سے پہلے بھی تھے اس راہ پہ چلنے والے
اب یہی سوچ کے رکتے ہیں یہاں دوسرے لوگ