Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Kavish Kamal's Photo'

کاوش کمال

1945 - 2015 | مغربی بنگال, انڈیا

مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے سادہ، شائستہ اور سہلِ ممتنع کے شاعر

مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے سادہ، شائستہ اور سہلِ ممتنع کے شاعر

کاوش کمال کا تعارف

تخلص : 'کاوش'

اصلی نام : عباس علی

پیدائش :مغربی بنگال

وفات : 25 Aug 2015 | ہاوڑہ, مغربی بنگال

کاوش کمال کا اصلی نام عباس علی اور  تخلص کاوش ہے۔ ان کے والد کا نام شہامت علی ہے۔ کاوش کمال کی ولادت سن 1945ء میں تیلنی پاڑہ، ہگلی، مغربی بنگال میں ہوئی جب کہ ان کا آبائی وطن قاضی پور، ضلع بھوج پور (بہار) ہے۔ گھریلو ضروریات کے پیشِ نظر انھوں نے کاروبار کو اہمیت دی اور گھریلو تعلیم تک ہی اپنے آپ کو محدود رکھا۔ شاعری کا آغاز انھوں نے 1955ء میں کیا اور شاعری پر اصلاح غواص قریشی اور اور حامی گورکھپوری سے لیتے رہے۔ کاوش کمال  کا شعری مجموعہ ”افکارِ کاوش“ 2017ء میں ان کے انتقال کے بعد منظر عام پر آیا۔

شاعر اور ادیب شمس افتخاری اپنے مضمون میں کاوش کمال کی شعری کاوش پر اس طرح اظہارِ خیال کرتے ہیں۔
"کچھ اپنی ذات کی خامی بھی سامنے رکھیے
پرایا عیب تو اکثر نظر میں رہتا ہے
طرزِ اظہار بالواسطہ ہے۔ لہجہ، ملائمت اور متانت لیے ہوئے ہے۔ اندازِ بیان معصومانہ اور ملتجیانہ ہے اور جو بات کہی گئی ہے وہ حق و صداقت پر مبنی ہے۔ مفہوم شیشے کی طرح شفاف اور واضح ہے۔ طرزِ تکلم میں جو شائستگی ہے، وہ خوب مزہ دے رہی ہے جیسا کہ اس بات سے اہل قلم اور اہل نقدو نظر اچھی طرح واقف ہیں کہ غزل کا فن ، ایجاز و اختصار کا متقاضی ہوتا ہے۔ ایہام، رمز وایما، پیچیدگی اور تہہ داری بھی اس کے فن میں شمار کی جاتی ہے۔ ان تمام لوازمات سے مذکورہ بالا شعر عاری ہے تاہم پرکشش اور دل نشیں ہے۔ اس کا حسن ساد ہ کاری اور شائستگی میں مضمر ہے۔ زبان اتنی سہل کہ کم پڑھا لکھا شخص بھی پڑھے تو مچل جائے۔"

کاوش کمال کا انتقال 25 اگست 2015ء کو شیب پور، ہاؤڑا، مغربی بنگال میں ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے