کاوش کمال کے اشعار
ساقی تری محفل کا یہ دستور بھی دیکھا
چھلکائے کوئی جام کوئی بوند کو ترسے
جو مسافر ہے اسے کیا دھوپ کی شدت کا غم
سر پہ سائے کے لیے ماں کی دعا لے جائے گا
نام ان کے چمکتے ہیں تاریخ کے صفحوں پر
جو لوگ زمانے کی تقدیر بدلتے ہیں
پوچھے کوئی ان سے دل بیتاب کی حالت
اک لمحہ سکوں جن کو میسر نہیں ہوتا
مری طرح یہ کہاں اپنے گھر میں رہتا ہے
مرا خیال مسلسل سفر میں رہتا ہے
جو حوصلوں سے سمندر کھنگال ڈالے گا
یقیں ہے گوہر مقصد ضرور پا لے گا
جرم کس کا ہے کون مجرم ہے
اور ہوتا ہے سر قلم کس کا
مفہوم دوستی سے اگر آشنا ہیں آپ
دشمن کو بھی بہ چشم حقارت نہ دیکھیے
ہوتا ہے حادثہ بھی کبھی باعث حیات
میں یوں گرا کہ دیکھنے والے سنبھل گئے
بے ہنر لوگ ہیں منظر عام پر
اور گوشہ نشیں با ہنر آدمی
کچھ ایسے لوگ بھی اپنے قریب رہتے ہیں
کہ جن سے دل نہ ملا ہاتھ بار بار ملے
ہمیں نے خوں چراغوں کو دیا ہے
اجالا ہے تری محفل میں ہم سے
کھیلتے ہیں شہر کے نادان بچے آگ سے
بچ نہیں سکتا ہے اب کوئی مکاں اس شہر میں