Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Kavish Kamal's Photo'

کاوش کمال

1945 - 2015 | مغربی بنگال, انڈیا

مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے سادہ، شائستہ اور سہلِ ممتنع کے شاعر

مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے سادہ، شائستہ اور سہلِ ممتنع کے شاعر

کاوش کمال کے اشعار

باعتبار

ساقی تری محفل کا یہ دستور بھی دیکھا

چھلکائے کوئی جام کوئی بوند کو ترسے

جو مسافر ہے اسے کیا دھوپ کی شدت کا غم

سر پہ سائے کے لیے ماں کی دعا لے جائے گا

نام ان کے چمکتے ہیں تاریخ کے صفحوں پر

جو لوگ زمانے کی تقدیر بدلتے ہیں

پوچھے کوئی ان سے دل بیتاب کی حالت

اک لمحہ سکوں جن کو میسر نہیں ہوتا

مری طرح یہ کہاں اپنے گھر میں رہتا ہے

مرا خیال مسلسل سفر میں رہتا ہے

جو حوصلوں سے سمندر کھنگال ڈالے گا

یقیں ہے گوہر مقصد ضرور پا لے گا

جرم کس کا ہے کون مجرم ہے

اور ہوتا ہے سر قلم کس کا

مفہوم دوستی سے اگر آشنا ہیں آپ

دشمن کو بھی بہ چشم حقارت نہ دیکھیے

ہوتا ہے حادثہ بھی کبھی باعث حیات

میں یوں گرا کہ دیکھنے والے سنبھل گئے

بے ہنر لوگ ہیں منظر عام پر

اور گوشہ نشیں با ہنر آدمی

کچھ ایسے لوگ بھی اپنے قریب رہتے ہیں

کہ جن سے دل نہ ملا ہاتھ بار بار ملے

ہمیں نے خوں چراغوں کو دیا ہے

اجالا ہے تری محفل میں ہم سے

کھیلتے ہیں شہر کے نادان بچے آگ سے

بچ نہیں سکتا ہے اب کوئی مکاں اس شہر میں

ہمارا حوصلہ تو دیکھ اے برق ستم پیشہ

نشیمن پھر اسی اجڑے گلستاں میں بناتے ہیں

Recitation

بولیے