noImage

خالد صدیقی

غزل 4

 

اشعار 6

اک اور کھیت پکی سڑک نے نگل لیا

اک اور گاؤں شہر کی وسعت میں کھو گیا

یہ کیسی ہجرتیں ہیں موسموں میں

پرندے بھی نہیں ہیں گھونسلوں میں

بہت تنہا ہے وہ اونچی حویلی

مرے گاؤں کے ان کچے گھروں میں

بے کار ہے بے معنی ہے اخبار کی سرخی

لکھا ہے جو دیوار پہ وہ غور طلب ہے

یوں اگر گھٹتے رہے انساں تو خالدؔ دیکھنا

اس زمیں پر بس خدا کی بستیاں رہ جائیں گی