خلیل الرحمن اعظمی کے مضامین
ادبی تاریخ اور اس کی تعلیم
اردو ادب کے سنجیدہ طلبہ اور معلمین کے درمیان غالباً اب اس بارے میں زیادہ اختلاف نہیں رہا کہ کسی ادبی کارنامے کی تحسین و قدرشناسی اور تجزیے و محاکمے کا عمل اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک ہمارے پاس تاریخی شعور نہ ہو، مگر تاریخی شعور کا صحیح مفہوم کیا
فاروقی کے تبصرے
پچھلے تین چار برسوں میں ہمارے یہاں جن نوجوان لکھنے والوں نے اپنی تحریروں سے ادبی حلقوں کو خاص طور پر اپنی طرف متوجہ کیا ہے ان میں شمس الرحمٰن فاروقی کا نام اب بہت نمایاں ہو چلا ہے۔ یوں تو انہوں نے متعدد ادبی مباحث پر مضامین و مقالات لکھ کر اپنی غیرمعمولی
ادب میں فارمولا بازی
شعر و ادب کے حسن و قبح کو پرکھنے کی کسوٹی کسی زمانے میں محض زبان و بیان اور قواعد عروض کے چند بندھے ٹکے اصول تھے۔ مشاعروں، نجی صحبتوں اور ادبی معرکہ آرائیوں سے لے کر درس گاہوں تک انہیں اصولوں کی حکمرانی تھی۔ پھرایک ایسا دور آیا جب شعری ادبی تحقیقات
خلیل الرحمن اعظمی: موت کی بانسری
خلیل صاحب کے ہونٹوں پر اس بانسری کی دھن کا ارتعاش پہلی بار میں نے ان کی موت سے کوئی سال بھر پہلے محسوس کیا۔ وہ ایک گرم اور بجھی بجھی سی رات تھی، جیسی دلی میں گرمیوں کی عام راتیں ہوتی ہیں۔ کشمیر کے سفر پر روانگی سے پہلے خلیل صاحب چند روز کے لیے میرے ساتھ