غزل

بڑا عجیب تھا اس کا وداع ہونا بھی

خورشید طلب

پلٹ کے جانب_اہل_و_عیال دیکھتا ہوں

خورشید طلب

دھواں اڑاتے ہوئے دن کو رات کرتے ہوئے

خورشید طلب

رواں ہے نور کا اک سیل ہر_بن_مو سے

خورشید طلب

سبب اس کی پریشانی کا میں ہوں

خورشید طلب

سرمۂ_چشم بنایا دل و جاں پر رکھا

خورشید طلب

شدید حبس میں راحت ہوا سے ہوتی ہے

خورشید طلب

قصوروار جو تم ہو خطا ہماری بھی ہے

خورشید طلب

منظر کی دیوار کے پیچھے اک منظر

خورشید طلب

نہ میں دریا نہ مجھ میں زعم کوئی بیکرانی کا

خورشید طلب

ہوا تو ہے ہی مخالف مجھے ڈراتا ہے کیا

خورشید طلب

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI