خورشید طلب کے اشعار

2.7K
Favorite

باعتبار

روز دیوار میں چن دیتا ہوں میں اپنی انا

روز وہ توڑ کے دیوار نکل آتی ہے

ہمیں ہر وقت یہ احساس دامن گیر رہتا ہے

پڑے ہیں ڈھیر سارے کام اور مہلت ذرا سی ہے

کوئی چراغ جلاتا نہیں سلیقے سے

مگر سبھی کو شکایت ہوا سے ہوتی ہے

مری مشکل مری مشکل نہیں ہے

وسیلہ تیری آسانی کا میں ہوں

ہوا تو ہے ہی مخالف مجھے ڈراتا ہے کیا

ہوا سے پوچھ کے کوئی دیئے جلاتا ہے کیا

خدا نے بخشا ہے کیا ظرف موم بتی کو

پگھلتے رہنا مگر ساری رات چپ رہنا

عزیزو آؤ اب اک الوداعی جشن کر لیں

کہ اس کے بعد اک لمبا سفر افسوس کا ہے

زندگی میں جو تمہیں خود سے زیادہ تھے عزیز

ان سے ملنے کیا کبھی جاتے ہو قبرستان بھی

بہت نقصان ہوتا ہے

زیادہ ہوشیاری میں

زمینیں تنگ ہوئی جا رہی ہیں دل کی طرح

ہم اب مکان نہیں مقبرہ بناتے ہیں

کبھی دماغ کو خاطر میں ہم نے لایا نہیں

ہم اہل دل تھے ہمیشہ رہے خسارے میں

اس نے آ کر ہاتھ ماتھے پر رکھا

اور منٹوں میں بخار اڑتا ہوا

کہ ہم بنے ہی نہ تھے ایک دوسرے کے لیے

اب اس یقین کو جینا حیات کرتے ہوئے

طلبؔ بڑی ہی اذیت کا کام ہوتا ہے

بکھرتے ٹوٹتے رشتوں کا بوجھ ڈھونا بھی

آئیے بیچ کی دیوار گرا دیتے ہیں

کب سے اک مسئلہ بے کار میں الجھا ہوا ہے

آج دریا میں عجب شور عجب ہلچل ہے

کس کی کشتی نے قدم آب رواں پر رکھا

کہیں بھی جائیں کسی شہر میں سکونت ہو

ہم اپنی طرز کی آب و ہوا بناتے ہیں

ہوا سے کہہ دو کہ کچھ دیر کو ٹھہر جائے

خجل ہماری عبارت ہوا سے ہوتی ہے

سب نے دیکھا اور سب خاموش تھے

ایک صوفی کا مزار اڑتا ہوا

سب ایک دھند لیے پھر رہے ہیں آنکھوں میں

کسی کے چہرے پہ ماضی نہ حال دیکھتا ہوں

ہر ایک عہد نے لکھا ہے اپنا نامۂ شوق

کسی نے خوں سے لکھا ہے کسی نے آنسو سے