1.1K
Favorite

باعتبار

کوئی چراغ جلاتا نہیں سلیقے سے

مگر سبھی کو شکایت ہوا سے ہوتی ہے

روز دیوار میں چن دیتا ہوں میں اپنی انا

روز وہ توڑ کے دیوار نکل آتی ہے

ہمیں ہر وقت یہ احساس دامن گیر رہتا ہے

پڑے ہیں ڈھیر سارے کام اور مہلت ذرا سی ہے

ہوا تو ہے ہی مخالف مجھے ڈراتا ہے کیا

ہوا سے پوچھ کے کوئی دیئے جلاتا ہے کیا

خدا نے بخشا ہے کیا ظرف موم بتی کو

پگھلتے رہنا مگر ساری رات چپ رہنا

عزیزو آؤ اب اک الوداعی جشن کر لیں

کہ اس کے بعد اک لمبا سفر افسوس کا ہے

بہت نقصان ہوتا ہے

زیادہ ہوشیاری میں

زندگی میں جو تمہیں خود سے زیادہ تھے عزیز

ان سے ملنے کیا کبھی جاتے ہو قبرستان بھی

اس نے آ کر ہاتھ ماتھے پر رکھا

اور منٹوں میں بخار اڑتا ہوا

کہ ہم بنے ہی نہ تھے ایک دوسرے کے لیے

اب اس یقین کو جینا حیات کرتے ہوئے

کبھی دماغ کو خاطر میں ہم نے لایا نہیں

ہم اہل دل تھے ہمیشہ رہے خسارے میں

زمینیں تنگ ہوئی جا رہی ہیں دل کی طرح

ہم اب مکان نہیں مقبرہ بناتے ہیں

طلبؔ بڑی ہی اذیت کا کام ہوتا ہے

بکھرتے ٹوٹتے رشتوں کا بوجھ ڈھونا بھی

ہوا سے کہہ دو کہ کچھ دیر کو ٹھہر جائے

خجل ہماری عبارت ہوا سے ہوتی ہے

کہیں بھی جائیں کسی شہر میں سکونت ہو

ہم اپنی طرز کی آب و ہوا بناتے ہیں

آج دریا میں عجب شور عجب ہلچل ہے

کس کی کشتی نے قدم آب رواں پر رکھا

سب نے دیکھا اور سب خاموش تھے

ایک صوفی کا مزار اڑتا ہوا

سب ایک دھند لیے پھر رہے ہیں آنکھوں میں

کسی کے چہرے پہ ماضی نہ حال دیکھتا ہوں

مری مشکل مری مشکل نہیں ہے

وسیلہ تیری آسانی کا میں ہوں

آئیے بیچ کی دیوار گرا دیتے ہیں

کب سے اک مسئلہ بے کار میں الجھا ہوا ہے

ہر ایک عہد نے لکھا ہے اپنا نامۂ شوق

کسی نے خوں سے لکھا ہے کسی نے آنسو سے