Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
M Ali's Photo'

ایم علی

1946 - 2026 | ہاوڑہ, انڈیا

مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر اور ناظمِ مشاعرہ

مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر اور ناظمِ مشاعرہ

ایم علی کا تعارف

تخلص : 'علی'

اصلی نام : محمد علی

پیدائش : 20 Jan 1946 | ہاوڑہ, مغربی بنگال

وفات : 02 Jul 2026 | ہاوڑہ, مغربی بنگال

ایم علی کا اصلی نام محمد علی اور ان کا تخلص علی ہے۔ ان کی ولادت 20 جنوری 1946ء کو شیب پور، ہوڑہ، مغربی بنگال میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام حافظ عبداللہ ہے۔ انھوں نے ایم اے تک تعلیم حاصل کی۔ پیشہ اعتبار سے وہ حکومت مغربی بنگال میں سرکاری ملازم تھے اور ڈپٹی مجسٹریٹ کے عہدے پر ان کی سبکدوشی ہوئی۔ ان کے بڑے بھائی خالق عبداللہ اردو کے مشہور و معروف شاعر تھے اور ان کے چھوٹے بھائی اشرف علی اشرف بھی شاعر تھے۔ یعنی پورا گھرانا ہوڑہ کی سرزمین پر شعر و ادب کی خوشبو پھیلا رہاتھا۔

ایم علی نے شاعری کا آغاز 1964ء میں کیا۔ ایم علی کے اندر ایک خوبی اور تھی وہ یہ ہے کہ مشاعروں میں اناؤنسنگ کے لیے بے حد مشہور تھے اور اپنی نظامت سے ایک سحر طاری کردیتے تھے۔ ایم علی کی نظامت کسی بھی مشاعرے کے لیے کامیابی کی ضمانت ہوتی تھی۔ 

ان کے دو شعری مجموعے منظرِ عام پر آئے جن میں ایک کا نام ”ریت اور پانی“ ہے جس کی اشاعت 2001ء میں ہوئی تھی اور دوسرے شعری مجموعے ”زندگی کے رنگ کئی رے“ کی اشاعت 2012ء میں ہوئی۔ 

”ریت اور پانی“ کے لیے لکھے گئے اپنے مضمون میں  معروف ناقد، شاعر، مترجم اور صحافی کلیم حاذق نے ایم علی کی غزل گوئی پر اس طرح اظہارِ خیال کیا ہے۔
”ایم علی آسمانِ شاعری کا ایک ایسا درخشاں ستارہ ہے جس کے حصّے میں دن کا سفر زیادہ آیا ہے لیکن اس نے اکثر روشنی کے جھماکے کیے ہیں اور تیز اجالوں میں بھی اپنے وجود کا احساس دلاتا رہا ہے نیز اپنی کرنوں سے ظلمتِ عالم میں شگاف بھی ڈالتا رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس کی روشنی نے ہما رے زمینی منظر ناموں میں رنگ و نکہت کے خوش رنگ حوالے قائم کیے ہیں۔ لفظوں سے ساحری بھی کی ہے اور شاعری کے آنگن میں حسنِ بیان کے خوش رنگ پھول بھی کھلائے ہیں۔ یہ ستارہ بے آب و گیاہ نہیں بلکہ مشکل ترین لمحات میں بھی ذہن و دل کی سیرابی کے وافر مواقع اور جدوجہد کی بے مثال نشانیاں اپنے جلومیں سمیٹے ہوئے ہے۔“

ایم علی کا انتقال 02 جولائی 2026ء کو دکھن بکسرا، ہوڑہ، مغربی بنگال میں ہوا۔ 

موضوعات

Recitation

بولیے