ایم علی کے اشعار
ایک پتھر نہیں تو پھر کیا ہے
دل اگر غم سے آشنا نہ ہوا
دل کٹ کے رہ گئے نہ بہا بوند بھر لہو
لفظو تمہاری دھار کہاں خنجروں میں ہے
بھیڑ رشتوں کی بھی ہے اور ہے تنہائی بھی
گھر میں رہ کر کوئی بے گھر ہے تمہیں کیا معلوم
پیاس باقی تھی پیاس باقی ہے
سنگ سے آبشار تک سب جھوٹ
اک حیات نو چھپی ہے کربلا کی راہ میں
کربلا راہ عمل ہے منزل ماتم نہیں