ایم۔ علی کا تعارف
اصلی نام : محمد علی
پیدائش : 04 Oct 1949 | کولکاتا, مغربی بنگال
وفات : 18 Oct 2016 | کولکاتا, مغربی بنگال
ایم علی کا اصلی نام محمد علی ہے۔ ان کے والد کا نام عبدلرزاق ہے۔ ایم علی کی ولادت 04 اکتوبر 1949ء کو بیل گچھیا روڈ، کولکاتا، مغربی بنگال میں ہوئی۔ انھوں نے کلکتہ یونیورسٹی سے اردو اور انگریزی میں ایم ے کی سند حاصل کی۔ نفسیات اور منیجمنٹ میں بھی انھوں نے مختصر میعادی کورسیز کیے۔ وہ مغربی بنگال سول سروسز کا امتحان پاس کر کے فوڈ اینڈ سپلائی میں افسر مقرر ہوگئے۔
تنقید کی طرف ان کا رجحان زیادہ رہا۔ ان کا سب سے پہلا مضمون علامہ اقبال پر تھا جو ماہنامہ ”شہود“ میں شائع ہوا۔ اس کے بعد متواتر ان کے مضامین ملک اور بیرونِ ملک کے رسائل میں شائع ہوتے رہے۔ ترجمہ نگاری سے بھی انھیں شغف تھا۔ ان کی کتابیں اس طرح ہیں۔ (1)شریک کار ورکشاپ برائے ”نربا چیتو کوبیتا“ غالب کی غزلوں کا بنگلہ میں ترجمہ زیرِ اہتمام ساہتیہ اکاڈمی، (2)بدلتے زاویے (تنقیدی مضامین کا مجموعہ)، (3)انتخاب مختار مشرقی (تالیف)، (4)ترجمہ آئینۂ فردا میں، (5)گورا (ناول) رابندر ناتھ ٹیگور (ترجمہ:ایم علی)۔
ایم-علی کی کتاب ”بدلتے زوایے“ پر ممتاز پاکستانی نقاد، محقق، شاعر اور کالم نویس ڈاکٹر انور سدید اس طرح اظہارِ خیال فرماتے ہیں۔
”بدلتے زاویے“ کے مصنف ایم۔ علی کا شمار ہندوستان کے نئے نقادوں میں ہوتا ہے اور خوبی یہ کہ وہ بسیار نویسی سے بچنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے ہندوستان و پاکستان کے رسائل میں کم کم نظر آتے ہیں۔ ان کی زیر نظر کتاب بھی مربوط فکری نظام کی آئینہ دار ہونے کے بجائے لخت لخت موضوعات کا مجموعہ ہے۔ تاہم ادب میں ان کی دلچسپی معمولی نہیں بلکہ غیرمعمولی ہے اور موضوعات پر سرسری نظر ڈالنے کے بجائے انھوں نے گہرائی سے اترنے کی کوشش کی ہے اور اپنے سنجیدہ مطالعہ سے نتائج کے وہ نوادرات بازیافت کیے جو خالصتاً ان کی ذاتی فکر کے آئینہ دار ہیں۔“
ایم- علی 18 اکتوبر 2016 کو اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔