ایم مبین کے افسانے
نئی صدی کا عذاب
ٹینک شہر کی سڑکوں پر گولے برساتے آگےبڑھ ر ہےتھے، لوگ بےتحاشہ خود کو ٹینک کےگولوں سے بچانے کےلئے ادھر، ادھر بھاگ رہےتھے۔ گولےکبھی کسی بلڈنگ کی دیوار سےٹکرا کر پھٹتےاور آگ کا ایک شعلہ سا بلند ہوتا، اس کےبعد پھر دھواں۔ دھیرے دھیرے جب دھواں صاف ہوتا تو
بےجسم
واپس گھر پہونچنے تک ٩ بج گئےتھے۔ اسےجھنجھلاہٹ ہو رہی تھی۔ ہر بار وہ چاہتا ہےکہ جلد سےجلد گھر پہونچے لیکن اس کی یہ چاہ کبھی پوری نہیں ہوتی تھی۔ آفس سےنکلنےکےبعد راستےمیں کچھ نہ کچھ مسائل اٹھ کھڑےہوتے تھےاور وہ تو دس بجے ہی گھر پہونچ پاتا تھا۔ کبھی
تریاق
رات بارہ بجے کےقریب میٹنگ سےجب وہ گھر آئے تو انھوں نے شاکرہ کو بےچینی سے ڈرائنگ روم میں ٹہلتا ہوا پایا۔ اس کی حالت دیکھ کر ان کا دل دھک سے رہ گیا اور ذہن میں ہزاروں طرح کے وسوسے سر اٹھانے لگے۔ شاکرہ کی بےچینی سے انھوں نےاندازہ لگایا تھا کہ کچھ نہ کچھ
گردش
بیل بجانے پر حسبِ معمول بیوی نےہی دروازہ کھولا۔ اس نے اپنی تیز نظریں بیوی کے چہرے پر مرکوز کر دیں جیسے وہ بیوی کےچہرے سے آج پیش آنے والے کسی غیر معمولی واقعہ کو پڑھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ بیوی کا چہرہ سپاٹ تھا۔ اس نےایک گہری سانس لی اسے محسوس ہوا کہ
سمینٹ میں دفن آدمی
اس کے سامنے سمینٹ کا ایک بڑا سا ٹکڑا رکھا ہوا تھا اور اس کےہاتھ میں سمینٹ توڑنے کی مشین۔ اس سمینٹ کے ٹکڑے میں اس کا دوست، محسن، کرم فرما دفن تھا اور اسے اس سمینٹ کے ٹکڑے کو توڑ کر اپنے اس دوست کی لاش نکالنی تھی۔ سمینٹ کو ڈرل کرکے توڑنے والی مشین