مہندر ناتھ کا تعارف
تخلص : 'مہندر ناتھ'
اصلی نام : مہندر ناتھ
وفات : 20 Mar 1974 | ممبئی, مہاراشٹر
رشتہ داروں : کرشن چندر (بھائی)
شناخت: ترقی پسند فکشن نگار، فلمی مکالمہ نویس اور سماجی حقیقت نگار ادیب
مہندر ناتھ 1923ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد پیشے سے ڈاکٹر تھے۔ انہوں نے اپنے بچپن اور جوانی کا بڑا حصہ پونچھ اور کشمیر میں گزارا۔ پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری حاصل کی، تاہم ایم اے کی تعلیم کے دوران سماجی اور سیاسی سرگرمیوں کی طرف مائل ہو کر باقاعدہ تعلیم ترک کر دی اور سوشلسٹ تحریک سے وابستہ ہو گئے۔ محنت کش طبقات کے حقوق، سماجی انصاف اور انسانی مساوات ان کی فکری زندگی کے بنیادی محرکات رہے۔ وہ مشہورِ افسانہ نگار کرشن چندر کے سگے بھائی تھے۔
انہوں نے 1940ء میں اردو میں لکھنا شروع کیا اور جلد ہی ترقی پسند تحریک کے نمایاں ادیبوں میں شمار ہونے لگے۔ وہ ترقی پسند مصنفین کی انجمن کے سرگرم رکن اور بعد ازاں اس کے سیکریٹری بھی رہے۔ اس کے علاوہ ینگ رائٹرز ایسوسی ایشن کے صدر اور فلم رائٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری کے فرائض بھی انجام دیے۔
مہندر ناتھ کا شمار اردو کے ممتاز افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے متعدد افسانوی مجموعے اور ناول شائع ہوئے۔ ان کی تحریروں میں غربت، بھوک، طبقاتی استحصال، انسانی رشتے، جنسی و نفسیاتی مسائل، قومی یکجہتی اور سیکولر اقدار جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ ان کے افسانوں پر روسی ادیب میکسیم گورکی اور فرانسیسی افسانہ نگار گی دے موپاساں کے اثرات بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔
ان کے معروف افسانوں میں "جہاں میں رہتا ہوں"، "نیا بھکاری"، "دو بیل"، "چاندی کے تارے"، "ایک، دو، تین"، "مائی ڈارلنگ ہوٹل"، "جنوب کا ساتھی"، "دو سہارے"، "پھر کوئی نہیں آئے گا"، "اگر میں مر جاؤں"، "گاڈ بلیس یو"، "چائے کی پیالی"، "ڈیڑھ روپیہ" اور "گالی" شامل ہیں۔
ان کے اہم ناولوں میں "آدم اور سکے"، "رات اندھیری ہے"، "سورج، ریت اور گناہ"، "پیار کا موسم"، "ارمانوں کی سیج" اور "لیڈر" قابلِ ذکر ہیں۔ ان کی متعدد کہانیاں ہندی، مراٹھی، گجراتی، تمل، تیلگو، پنجابی، سندھی اور اوڑیہ سمیت کئی زبانوں میں ترجمہ ہوئیں، جبکہ بعض افسانے روسی اور سویڈش زبانوں میں بھی منتقل کیے گئے۔
ادب کے ساتھ ساتھ انہوں نے فلمی دنیا میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں اور تقریباً بیس فلموں کے مکالمے تحریر کیے۔ "نقلی نواب"، "باغی شہزادہ"، "گستاخی معاف" اور "امید" جیسی فلمیں ان کی فلمی خدمات کا اہم حصہ ہیں۔ فلم "منچلی" کے مکالمے اور ہدایت کاری بھی انہوں نے انجام دی۔
وفات: مہندر ناتھ کا انتقال 20 مارچ 1974ء کو ہوا۔