منظر نقوی کے شعر

اچھی قسمت اچھا موسم اچھے لوگ

پھر بھی دل گھبرا جاتا ہے بعض اوقات

اس کے اسباب سے نکلا ہے پریشاں کاغذ

بات اتنی تھی مگر خوب اچھالی ہم نے