Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Masood Tanha's Photo'

مسعود تنہا

1978 | لاہور, پاکستان

مسعود تنہا کے اشعار

454
Favorite

باعتبار

یادوں کے قافلے میں اداسی تھی ہم رکاب

ہجرت میں تیرے شہر سے تنہاؔ نہیں گئے

شہر میں رونقیں سہی تنہاؔ

اپنے گاؤں سے مت کنارا کر

دوست ہی خوبیاں بتاتے ہیں

دوست ہی خامیاں نکالتے ہیں

یہ تماشا سر بازار نہیں ہو سکتا

ہر کوئی میرا خریدار نہیں ہو سکتا

دشت غربت میں ہم سفر نہ بنا

ہم کئی مہربان چھوڑ آئے

چپ جو رہتے ہیں تو یہ بات غنیمت جانو

ورنہ ہم لوگ بھی اک حشر اٹھا سکتے ہیں

میں جب بھی لڑا حق کے لیے اپنے عدو سے

میداں میں رہی کوئی نہ تلوار سلامت

میں جانتا ہوں زمانے کی بے نیازی کو

مجھے پتا ہے سفر میں کہاں ٹھہرنا ہے

جہاں بھی دیکھا انہیں دوستو سلام کیا

ہمیشہ ہم نے حسینوں کا احترام کیا

آج آؤ اس طرح جیسے کہ پہلی بار تم

آ گئے تھے بے خیالی میں سنور کے سامنے

کوئی تازہ لگاؤ زخم دل پر

پرانی یہ نشانی ہو رہی ہے

گناہوں نے مجھے جکڑا ہوا ہے اس طرح تنہاؔ

کہ لحظہ بھر عبادت بھی سزا معلوم ہوتی ہے

بارہا ہم نے اسے رو کے کہا ہے صاحب

دن جدائی کے نہیں ہم سے گزارے جاتے

بہت خاموش رہتا ہے جو تنہاؔ

وہ محفل میں برابر بولتا ہے

امیر شہر کی تھوڑی سی کجروی کے سبب

غریب شہر نے دیکھے ہیں المیے کتنے

بزم یاراں میں بیٹھتا ہوں مگر

میری جانب حریف دیکھتے ہیں

اس بار اکھڑ جائیں گے ایوان سیاست

دربان رہیں گے نہ یہ دربار رہے گا

ہنسے والوں کو جو اک پل میں رلا سکتے ہیں

ایسے لمحات بھی تو زیست میں آ سکتے ہیں

زخم دیتا ہے ہر کوئی تنہاؔ

حوصلہ بھی دیا کرے کوئی

سلوک رکھتا ہے مجھ سے منافقوں جیسا

تمام شہر میں جو معتبر زیادہ ہے

کم ملنے کا احساس گراں لگتا ہے تیرا

اب لطف و کرم بھی ترا پہلے سا نہیں ہے

بچ کے نکلا تھا جو کبھی مجھ سے

آ گیا ہے مرے نشانے پر

مار ڈالے گی ایک دن تنہاؔ

یہ تری شوخیٔ جمال مجھے

جانے کیا کیا اور ہوں راہ طلب میں مشکلیں

ساتھ رکھنا ہے کبھی زاد سفر مت بھولنا

بہانے ترک تعلق کے کس نے ڈھونڈے تھے

یہ سارے حلقۂ یاراں میں فیصلے ہوں گے

چھپا کر درد کو سینے میں تنہاؔ

بھرم اس کا بھی کچھ رکھنا پڑے گا

جنگل میں جو سناٹا تھا

شہر کی جانب آ نکلا ہے

جس کو راحت ہے تیری یادوں سے

تیری فرقت میں اشک بار بھی ہے

قافلے رہ میں لوٹنے والا

راہزن ایک رہنما نکلا

وہ سخی ہے تو اس کی چوکھٹ پر

دلبری کا سوال کر دیکھیں

حادثے پھر نہ پیش آتے ہمیں

یہ محافظ جو کرتے گھات پہ غور

مسیحائی کا ہو اعجاز جس میں

کہیں وہ چارہ گر ملتا نہیں ہے

بھنور نے آ لیا ہے کشتیوں کو

نظارے دیکھ لو تم بھی اجل کے

Recitation

بولیے