مولوی کریم الدین کا تعارف
شناخت: انیسویں صدی کے نامور مصنف، مؤرخ، مترجم، لغت نویس، تذکرہ نگار اور 'کریم اللغات' کے مؤلف
مولوی کریم الدین 1237ھ مطابق 1821 کو پانی پت (برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، عربی اور فارسی کی ابتدائی کتابیں اپنے والد سراج الدین سے پڑھیں۔
1840ء میں وہ دہلی کالج میں داخل ہوئے اور وہاں ہندسہ (جغرافیہ/جیومیٹری)، ہیئت، الجبرا اور تاریخِ ادب جیسے جدید علوم سیکھے۔ وہ اردو، عربی اور فارسی کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان پر بھی گہرا عبور رکھتے تھے۔
تعلیم سے فارغت کے بعد انہوں نے دہلی میں ایک مطبع (پرنٹنگ پریس) قائم کیا، جس کے ذریعے تاریخ کے موضوع پر اعلیٰ پائے کی کتابیں منظرِ عام پر لائیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے 'کریم الاخبار' اور 'گلِ رعنا' کے نام سے دو مایہ ناز ماہنامے بھی جاری کیے۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کے دوران جب دہلی پر تباہی اور غارت گری کا طوفان آیا، تو وہ وہاں سے نکل کر آگرہ پہنچ گئے، جہاں وہ آگرہ کالج میں پروفیسر مقرر ہوئے۔ بعد ازاں، 1863ء میں وہ پنجاب منتقل ہو گئے اور حلقہ لاہور کے ڈپٹی انسپکٹر تعلیمات کے عہدے پر ایک طویل عرصے تک خدمات انجام دیں۔
لاہور آمد کے بعد ان کا تخلیقی اور تحقیقی سفر عروج پر پہنچا، جہاں انہوں نے کئی اہم کتابیں تصنیف، تالیف اور ترجمہ کیں۔ ان کی سب سے مشہور تالیف لغتِ اردو کی تاریخی کتاب ’’کریم اللغات‘‘ ہے۔ اس کے علاوہ ان کی دیگر اہم تصانیف میں ’’طبقات شعرائے ہند‘‘ (1848ء)، ’’گلدستۂ نازنیناں‘‘ (1845ء)، ’’تاریخِ ہندوستان المعروف واقعاتِ ہند‘‘ (1870ء)، اردو زبان کی صرف و نحو پر مبنی ’’قواعد المبتدی‘‘ (1858ء)، اور اردو ادب کے ابتدائی دور کا ناول ’’خطِ تقدیر‘‘ (1862ء) شامل ہیں۔ انہوں نے ’’تاریخ ابو الفداء‘‘ کا ترجمہ بھی کیا اور ’’تاریخ شعرائے عرب‘‘ و ’’مکتوبِ محمدی‘‘ جیسی کتابیں بھی لکھیں۔
وفات: مولوی کریم الدین کا انتقال 1879ء کو لاہور میں ہوا۔