منہاج خان کے اشعار
دل تڑپ جاتا ہے جس دم یاد آ جاتے ہیں آپ
آپ سے بچھڑے ہمیں کتنے زمانے ہو گئے
بےوقوف اپنے کو کہتے ہوئے باہر نکلے
جب وہاں سب تھے سمجھدار تو ہم کیا کرتے
پہلے تو خود کو دفن کیا اپنی قبر میں
پھر اپنا مرثیہ بھی سنانا پڑا مجھے
میری امیدوں کے جتنے تھے شجر سوکھ گئے
جب کسی اور سے جا کر وہ ملا شام کے بعد