Mohammad Ali Sahil's Photo'

محمد علی ساحل

1964 | اٹاوہ, انڈیا

محمد علی ساحل کے شعر

1.6K
Favorite

باعتبار

دور رہتی ہیں سدا ان سے بلائیں ساحل

اپنے ماں باپ کی جو روز دعا لیتے ہیں

خامشی تیری مری جان لیے لیتی ہے

اپنی تصویر سے باہر تجھے آنا ہوگا

ہم ہیں تہذیب کے علمبردار

ہم کو اردو زبان آتی ہے

کوئی کرتا ہے جب ہندوستان کی بات اے ساحلؔ

مجھے اقبال کا قومی ترانہ یاد آتا ہے

میری نیندیں حرام کیا ہوں گی

گھر میں رزق حلال آتا ہے

مرتے دم تک سب مجھ کو انسان کہیں

ایسا ہی کردار مرا ہو یا اللہ

مسئلے تو زندگی میں روز آتے ہیں مگر

زندگی کے مسئلوں کا حل نکلنا چاہیے

میری آنکھوں میں ہوئے روشن جو اشکوں کے چراغ

ان کے ہونٹوں پر تبسم کا دیا جلتا رہا

سب کے ہونٹوں پہ واردات کے بعد

صرف میرا ہی نام ہوتا ہے

جو اثاثہ زندگی کا اس نے جوڑا عمر بھر

موت کا سیلاب جب آیا تو سب کچھ بہہ گیا

وہ یقیناً ولی صفت ہوگا

خیر سے جو بھی شر میں رہتا ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے