محمد فرحان دیوان کا تعارف
محمد فرحان دیوان 8 نومبر 1990 کو اتر پردیش کے مردم خیز شہر کالپی (ضلع جالون) میں عبدالناظر دیوان کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق کالپی کے معزز اور علمی ذوق کے حامل ’’دیوان خاندان‘‘ سے ہے، جو اپنے سماجی وقار اور تہذیبی شناخت کے سبب شہر میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔
ان کی ابتدائی تعلیم کالپی ہی کے معروف تعلیمی اداروں ’لٹل اینجل پبلک اسکول‘ اور ’سرسوتی ودیا مندر‘ میں ہوئی، جہاں سے علم و آگہی کا پہلا چراغ روشن ہوا۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کی آرزو نے انہیں علی گڑھ کی علمی فضا کی طرف متوجہ کیا اور یوں انہوں نے 2008 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بی اے میں داخلہ لیا۔
جامعہ کی ہمہ گیر فضا میں محمد فرحان نے نہ صرف تعلیمی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ کھیل کود اور ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ کھیل اور سیروتفریح سے فطری شغف کے باعث وہ این سی سی اور این ایس ایس جیسے منظم اداروں سے وابستہ ہوئے، نیز لان ٹینس اور ہائکنگ اینڈ ماؤنٹینئیرنگ کلب میں بھی سرگرم کردار ادا کیا۔ آفتاب ہال میں قیام کے دوران وہ لان ٹینس کلب کے کپتان منتخب ہوئے اور ہال کی میگزین کی مجلسِ ادارت سے بھی وابستہ رہے، جو ان کی قائدانہ صلاحیتوں اور ادبی ذوق کا بین ثبوت ہے۔
2012 میں ایم اے کی سند حاصل کرنے کے ساتھ ہی انہوں نے یو جی سی کے نیٹ امتحان میں کامیابی حاصل کی، جو ان کی علمی سنجیدگی اور تحقیقی استعداد کا مظہر ہے۔ بعد ازاں 2014 میں پی جی ڈپلوما اِن ماس کمیونیکیشن مکمل کیا اور اسی سال پی ایچ ڈی میں داخل ہو کر باقاعدہ تحقیقی سفر کا آغاز کیا۔
تعلیم و تحقیق کے اس مسلسل سفر نے محمد فرحان دیوان کو تنقیدی بصیرت اور فکری بالیدگی عطا کی۔ دورانِ تحقیق ان کے علمی، ادبی، تہذیبی، سماجی، ثقافتی اور سیاسی موضوعات پر مبنی مضامین ملک کے مختلف معتبر رسائل میں شائع ہوئے، جن سے ان کی سنجیدہ فکر اور وسیع مطالعے کا اندازہ ہوتا ہے۔
پی ایچ ڈی کی سند 2018 میں عطا ہونے سے قبل ہی ان کی دو اہم کتابیں ’’مضامین انوار انصاری‘‘ (2017) اور ’’مطالعۂ ادب کی جہتیں‘‘ (2018) منظر عام پر آچکی تھیں، جو ان کی تنقیدی بصیرت اور تحقیقی مزاج کی آئینہ دار ہیں۔ 2020 میں انہوں نے ہندی ناول ’’چھن مول‘‘ کا اردو ترجمہ ’’بحران‘‘ کے عنوان سے پیش کیا، جس سے ان کی لسانی مہارت اور ترجمہ نگاری کی صلاحیت نمایاں ہوئی۔ مزید برآں 2025 میں ان کی تازہ تصنیف ’’شان الحق حقی: شخصیت اور فن‘‘ شائع ہوئی، جو اردو ادب کی ایک اہم شخصیت پر ان کی گہری تحقیق اور فکری وابستگی کا ثبوت ہے۔
مختصراً، محمد فرحان دیوان عصرِ حاضر کے ان نوجوان اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علمی وقار، ادبی سنجیدگی اور تحقیقی ژرف نگاہی کو اپنی شناخت بنایا ہے، اور جن کا تخلیقی و تنقیدی سفر مسلسل ارتقا کی جانب گامزن ہے۔