محمد ہاشم خان کے افسانے
کہانیوں سے پرے
تصویر کے عقب میں تحریرشدہ عبارت پڑھنے کے بعد میرے اوسان خطا ہو گئے۔ تاریخ پرنظرپڑی تو حواس معطل ہو گئے، گویا پاؤں کے نیچے سے زمین کھسک گئی ہو۔ مجھے کسی بھی حال میں پہنچنا تھا لیکن میں یہ طے نہیں کر پا رہا تھا کہ مجھے جانا چاہئے یا نہیں۔ نئی نئی ملازمت،
فردوس حزیں
آبشارکی زیریں لہروں کی بازگشت وصال و فراق کے زمزمے سنا رہی تھی، دیودار کے پتوں، ڈالیوں اورجڑوں پر جمی ہوئی برف بتدریج پگھل کر زمین میں جذب ہو رہی تھی، سردی ہڈیوں میں اتر رہی تھی، سویٹر، مفلر اور دستانے خودآتش بدن مانگ رہے تھے اور دور بہت دور چنار کے
غالب سالا بچ گیا
سیاہیٔ شب میں اوپر دوربہت دور آفاق کی پہنائی میں، قوس در قوس ٹمٹماتے ہوئے لرزیدہ تاروں کی زردی مائل مدھم روشنی طوفان میں ہچکولے کھاتی کشتی کے مانند نظر آ رہی تھی۔ پہلے تو اسےکچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ اچانک وہ کس جگہ پر آ گیا ہے، کس ساعت زوال میں کب،
سروجنی
’گیہوں کی بالیاں کچھ زیادہ بڑی ہونے لگی ہیں ، ۔’’ہاں اور پگڈنڈیاں اب سکڑ گئی ہیں۔ دو لوگ ایک ساتھ نہیں چل سکتے‘‘۔ کوئی ایک مانوس سی آواز نے سرگوشی کی۔ اس نے آس پاس دیکھا۔ ادھ پکی بالیوں کے لہلانے کی آواز تھی۔ کچھ دن قبل سرپھری ہوا چلی تھی،