Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Mohammad Hasnain Parwez's Photo'

محمد حسنین پرویز

1997 | گجرات, پاکستان

محمد حسنین پرویز کے اشعار

میں اس کو چومتا رہتا تھا اس سلیقے سے

کہ میرے ہونٹ پہ سرخی نہ آئے گالوں کی

شعر کہنے پہ بڑی داد ملی ہے مجھ کو

ہائے افسوس کہ اشعار کو سمجھا جاتا

شعر کہنا بھی تو زخموں کی نمائش ہے میاں

داد ملنے پہ مرے زخم ہرے ہوتے ہیں

اس اذیت کو مرے یار کہاں جانتے ہیں

میں بدلتے ہوئے ماحول میں ڈھل جاتا ہوں

کسی نے گن کے بتائے تو دل ہی ڈوب گیا

کبھی یہ رنگ تمہارے مجھے بھی ازبر تھے

خدا کے ہاتھ میں اپنی یہ ڈور کتنی ہے

میں ہر قدم پہ ہوئے سانحے پہ سوچتا ہوں

Recitation

بولیے