محمد الیاس برنی کا تعارف
شناخت: ماہرِ معاشیات، مصنف و مترجم، جامعہ عثمانیہ کے شعبۂ معاشیات کے اولین سربراہ
پروفیسر محمد الیاس برنی برصغیر کے ممتاز ماہرِ معاشیات، محقق اور مترجم تھے، جنہوں نے اردو زبان میں علمِ معاشیات کو باقاعدہ علمی بنیاد فراہم کی۔ وہ جامعہ عثمانیہ، حیدرآباد کے شعبۂ معاشیات کے پہلے سربراہ تھے اور اردو میں معاشیات کی پہلی کتاب تصنیف کرنے کا اعزاز بھی انہیں حاصل ہے۔
پروفیسر الیاس برنی 19 اپریل 1890ء کو خورجہ، ضلع بلند شہر (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی، بعد ازاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم اے اور ایل ایل بی کی ڈگریاں امتیازی حیثیت کے ساتھ حاصل کیں۔ علی گڑھ میں قیام کے دوران وہ تعلیمی و اصلاحی سرگرمیوں میں سرگرم رہے اور کچھ عرصہ معاشیات کی تدریسی خدمات بھی انجام دیں۔
1917ء میں ریاست حیدرآباد کے نظام نے انہیں نئے قائم شدہ دارالترجمہ میں معاشیات کے مترجم کی حیثیت سے طلب کیا۔ بعد ازاں وہ جامعہ عثمانیہ سے وابستہ ہوئے، جہاں انہوں نے تدریس کے ساتھ ساتھ مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں، جن میں شعبۂ معاشیات کی سربراہی، ڈائریکٹر دارالترجمہ، ڈائریکٹر دائرۃ المعارف اور رجسٹرار کے عہدے شامل ہیں۔
پروفیسر برنی نے اردو، فارسی، عربی اور انگریزی میں تقریباً 40 کتابیں تصنیف کیں۔ ان کی اہم تصانیف میں علم المعیشت، مقدمہ معاشیات اور معاشیات ہند اور اردو-ہندی رسم الخط پر مبنی تحقیقی کتاب شامل ہیں، جسے مولوی عبدالحق نے قومی خدمت قرار دیا۔
وہ مذہبی اور فکری موضوعات پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ ان کی معروف کتاب "قادیانی مذہب" اس موضوع پر ایک جامع تحقیق مانی جاتی ہے، جس کا عربی ترجمہ بھی کیا گیا۔ اس کے علاوہ "مشکاة الصلوٰۃ"، "اسرار حق"، "معارف ملت"، "جذبات فطرت" اور "سیرت الحمید" جیسی تصانیف بھی ان کے علمی تنوع کا ثبوت ہیں۔
انہیں محمد علی جناح نے پاکستان کی پلاننگ کمیٹی میں بھی شامل کیا، تاہم تقسیم کے بعد انہوں نے ہندوستان میں ہی قیام کو ترجیح دی۔
وفات: پروفیسر محمد الیاس برنی 25 جنوری 1958ء کو بلند شہر میں انتقال کر گئے۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Ilyas_Burney
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n89263077