مہذب لکھنوی کا تعارف
شناخت: شاعر، مرثیہ نگار، پدم شری یافتہ لغت نویس اور ’’مہذب اللغات‘‘ کے مؤلف
سید محمد میرزا، تخلص ’’مہذب‘‘، جنوری 1908ء میں لکھنؤ کے علاقے نیا محل، منصور نگر میں پیدا ہوئے۔ وہ معروف مرثیہ نگار سید عسکری مرزا مؤدب لکھنوی کے بڑے صاحب زادے اور عظیم مرثیہ گو میر عشق کے حقیقی پوتے تھے۔ اس طرح انہیں شعر و ادب کا ذوق خاندانی ورثے میں ملا۔ ان کے ننھیالی خاندان میں بھی شعروادب کی روایت موجود تھی، ان کے نانا سید محمد ہادی زار خود صاحبِ ذوق شاعر تھے۔
مہذب لکھنوی کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، جہاں اس زمانے کے رواج کے مطابق اساتذہ مقرر کیے گئے۔ بعد ازاں عربی مدارس میں دینی و ادبی تعلیم حاصل کی اور مدرسہ ناظمیہ لکھنؤ سے ’’ممتاز الافاضل‘‘ کی سند حاصل کی۔ اس کے علاوہ لکھنؤ یونیورسٹی سے ’’دبیرِ کامل‘‘ کا امتحان بھی پاس کیا۔
شعر و شاعری کا آغاز انہوں نے تقریباً نو برس کی عمر میں کیا۔ ابتدا میں غزل کہتے تھے، مگر والد کی ہدایت پر مرثیہ نگاری کی طرف متوجہ ہوئے اور پھر عمر بھر اسی صنف سے وابستہ رہے۔ انہیں میر عشق اور میر تعشق کی مرثیہ نگاری کا حقیقی وارث سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مراثی کی تعداد تقریباً اسی کے قریب بتائی جاتی ہے، جب کہ رباعیات، قصائد اور سلام کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ وہ صرف مرثیہ نگار ہی نہیں بلکہ مقبول مرثیہ خواں بھی تھے۔
مہذب لکھنوی نے 1940ء میں ’’انجمن محافظِ اردو‘‘ کی بنیاد رکھی، جس کے تحت متعدد نایاب اور غیر مطبوعہ مراثی و مخطوطات شائع کیے گئے۔ اس خدمت کے ذریعے انہوں نے اردو کے کئی قیمتی ادبی سرمائے کو ضائع ہونے سے بچایا۔ اردو ادب کی تاریخ میں یہ خدمت ان کے ایک بڑے کارنامے کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔
ان کا سب سے بڑا علمی کارنامہ عظیم اردو لغت ’’مہذب اللغات‘‘ کی تدوین ہے۔ یہ لغت چودہ جلدوں پر مشتمل ہے اور حکومتِ ہند کی سرپرستی میں شائع ہوئی۔ اس کی پہلی جلد 1955ء میں منظر عام پر آئی جبکہ آخری جلد 1982ء میں شائع ہوئی۔ ’’مہذب اللغات‘‘ میں فصیح اردو، دہلی اور لکھنؤ کے محاورات، تلفظ، سوانحی اشارات اور زبان کے دقیق پہلوؤں کو نہایت تحقیق اور اہتمام کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اردو لغت نویسی میں اسے ایک جامع، مستند اور اہم کارنامہ تصور کیا جاتا ہے۔ اسی علمی خدمت کے اعتراف میں حکومتِ ہند نے انہیں 1971ء میں ’’پدم شری‘‘ کے اعزاز سے نوازا۔
وفات: 4 نومبر 1985ء بمطابق 20 صفر المظفر کو لکھنو میں انتقال ہوا۔