مونا شہزاد کے افسانچے
قیدی
میں بہت دیر سے ساکت و جامد بیٹھا تھا، میرے اندر اک عجب توڑ پھوڑ چل رہی تھی، میں نے محسوس کیا کہ میری سوچوں میں نراش کا پیڑ نمو پا گیا تھا۔ میں نے سوچا : "میں آخری بار کب کھلکھلا کر ہنسا تھا؟" میں نے اپنے ذہن پر زور ڈالا مگر یاد نہیں آیا۔ شاید مجھے قہقہہ
آگہی
ہاں مندھیرا ہی اس جنگل کی آن و بان تھا۔ مندھیرا مافوق الفطرت قوتوں سے مالا مال ایک نایاب پرندہ تھا۔ اس کے پَر اتنے وسیع وعریض تھے کہ ان سے آسمان ڈھک جاتا تھا، بادو باراں اور کڑک اس کے زیر نگرانی تھے۔ اس کے انہی اوصاف کے باعث وہ اپنے جنگل میں سب کو ہر