مونا شہزاد کے افسانے
بھٹیارن کا عشق
’’آج آفس میں دن ہی کچھ عجیب تھا، سب کام میری توقعات کے خلاف ہوئے تھے، میرا پارہ آسمان کو چھو رہا تھا، میری زبان کی دھار سے سب آفس اسٹنٹ گھبرائے پھر رہے تھے، سب سے آخر میں میرا نزلہ عابدی صاحب پر گرا، جو پچھلے بیس سال سے ہماری فرم میں ملازم تھے، انھوں
خوشۂ امید کا سفر
‘‘فیکے! فیکے! کتے، سور! تجھے سونے کے لیے میں نے رکھا ہے۔’‘ ٹھیکیدار غصے سے پاگل ہو رہا تھا، اس کے منہ سے کف نکل رہی تھی۔ پورے بھٹے کے مزدور ہراساں تھے، مزدور عورتوں نے ایک دوسرے سے اشاروں سے پوچھا کہ بچے کی ماں کہاں ہے؟۔ دور مٹی گوندھتی مگن رحیماں
نرتکی
اس نے آئینے میں تیار ہوکر اپنا جائزہ لیا، وہ اپنا عکس آئینے میں دیکھ کر ٹھٹھک گیا، بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے بہہ چکا تھا، یہ عکس تو اجنبی تھا، یہ تو وہ مہر نیاز خان نہیں تھا، جس کی وجاہت کا ہر طرف شہرہ تھا۔ یہ چہرہ جھریوں زدہ، تو کسی اور کا تھا، اس
پگلی
پاک محلہ کوئی عام محلہ تھوڑی تھا، پاکیزہ اور حسبی نسبی لوگوں کی رہائش گاہ تھا، سارے محلہ میں ایک سے بڑھ کر ایک شاندار گھر تھا، بیشتر گھروں پر خیرو برکت کے لیے قرآنی آیات لکھی نظر آتیں، محلے کی ایک نکڑ پر سبز گنبدوں اور اونچے میناروں والی مسجد واقع تھی،