مطرب بلیاوی کا تعارف
مطرب بلیاوی کا اصل نام نواب حسین ہے۔ ان کی ولادت 22 مارچ 1929ء کو پیر محمد صاحب کے گھر بلیا، یوپی میں ہوئی تھی۔ انھوں نے شاعری کا آغاز فروری 1955 میں کیا۔ اصنافِ سخن میں غزل، نظم اور قطعات کے علاوہ انھوں نے افسانے بھی لکھے لیکن ان کا تخلیقی رجحان زیادہ تر شاعری کی طرف رہا۔ تعلیم بی اے تک تھی۔ شاعری میں کوثر جائسی اور قیصر شمیم سے شرفِ تلمذ حاصل رہا۔ ان کے دو شعری مجموعےشائع ہوئے۔ پہلا شعری مجموعہ ”شجرِ درد کے پھول“ 1988 میں شائع ہوا جب کہ دوسرا شعری مجموعہ بنام ”کلامِ مطرب“ 2011 میں شائع ہوا جس کے مرتب ایم-نصر اللہ نصر ہیں۔ واضح ہو کہ مطرب بلیاوی صاحب کا انتقال 12 جولائی 2005ء کو شیب پور، ہاؤڑہ، مغربی بنگال میں ہوا تھا۔
ممتاز شاعر و ادیب، ناقد، مترجم اور صحافی جناب سالک لکھنوی کے مطابق ”جناب مطرب کی نجی زندگی میں جو وقار و شائستگی ہے ان کے کلام میں وہی شائستگی ملتی ہے اور ان کی زندگی کو جن محرومیوں سے سابقہ پڑا ہے وہ ان کے اشعار میں سوز و گداز بن کر نمایاں ہوگئی ہیں؎
ریزہ ریزہ چن رہا ہوں آنسوؤں کی چھاؤں میں
دل کے آئینے پہ کتنے وقت کے پتھر لگے
یا پھر؎
یہ دیکھنا تھا کون بڑھاتا ہے اپنا ہاتھ
یہ غم نہیں کہ مجھ کو سنبھالا نہیں گیا