Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Mutrib Baliyavi's Photo'

مطرب بلیاوی

1929 - 2005 | ہاوڑہ, انڈیا

معروف شاعر اور افسانہ نگار

معروف شاعر اور افسانہ نگار

مطرب بلیاوی کا تعارف

تخلص : 'مطرب بلیاوی'

اصلی نام : نواب حسین

پیدائش : 22 Mar 1929 | بلیا, اتر پردیش

وفات : 12 Jul 2005

مطرب بلیاوی کا اصل نام نواب حسین ہے۔ ان کی ولادت 22 مارچ 1929ء کو پیر محمد صاحب کے گھر  بلیا، یوپی میں ہوئی تھی۔ انھوں نے شاعری کا آغاز فروری 1955 میں کیا۔ اصنافِ سخن میں غزل، نظم اور قطعات کے علاوہ انھوں نے افسانے بھی لکھے لیکن ان کا تخلیقی رجحان زیادہ تر شاعری کی طرف رہا۔ تعلیم بی اے تک تھی۔ شاعری میں کوثر جائسی اور قیصر شمیم سے شرفِ تلمذ حاصل رہا۔ ان کے دو شعری مجموعےشائع ہوئے۔ پہلا شعری مجموعہ ”شجرِ درد کے پھول“ 1988 میں شائع ہوا جب کہ دوسرا شعری مجموعہ بنام ”کلامِ مطرب“ 2011 میں شائع ہوا جس کے مرتب ایم-نصر اللہ نصر ہیں۔ واضح ہو کہ مطرب بلیاوی صاحب کا انتقال 12 جولائی 2005ء کو  شیب پور، ہاؤڑہ، مغربی بنگال میں ہوا تھا۔
ممتاز شاعر و ادیب، ناقد، مترجم اور صحافی جناب سالک لکھنوی کے مطابق ”جناب مطرب کی نجی زندگی میں جو وقار و شائستگی ہے ان کے کلام میں وہی شائستگی ملتی ہے اور ان کی زندگی کو جن محرومیوں سے سابقہ پڑا ہے وہ ان کے اشعار میں سوز و گداز بن کر نمایاں ہوگئی ہیں؎
ریزہ ریزہ چن رہا ہوں آنسوؤں کی چھاؤں میں
دل کے آئینے پہ کتنے وقت کے پتھر لگے
یا پھر؎
یہ دیکھنا تھا کون بڑھاتا ہے اپنا ہاتھ
یہ غم نہیں کہ مجھ کو سنبھالا نہیں گیا

موضوعات

Recitation

بولیے